کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 141
نے فرمایا ہے۔ "اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمْ الصَّلَاةُ" "سیدھے چلتے رہو اور تم ہر گز مکمل طور پر سیدھے نہیں رہ سکتے (کوئی نہ کوئی غلطی ہوہی جاتی ہے) اور جان لو کہ تمہارے اعمال میں سے بہترین عمل نماز ہے۔"[1] نماز کئی طرح کی عبادتوں کا مجموعہ ہے مثلاً :قراءت ،رکوع ،سجدہ ،دعا ،تذلل ،خشوع و خضوع مناجات ،تکبیر ،تسبیح اور درود وغیرہ ۔ نفل نماز کی دو انواع ہیں: 1۔وہ نفل نماز یں جن کے اوقات متعین اور مقرر ہیں۔ انھیں "نوافل مقیدہ" کہا جاتا ہے۔ 2۔وہ نفل نمازیں جن کے اوقات متعین اور مقرر نہیں۔ انھیں "نوافل مطلقہ" کہا جاتا ہے۔ پہلی نوع کی متعدد اقسام ہیں۔ان میں بعض کی تاکید دوسری نفل نمازوں سے زیادہ ہے، مثلاً:سب سے زیادہ تاکید نماز کسوف کی ہے ۔ پھر نماز استسقاء کی، پھر نماز تراویح کی، پھر نماز وتر کی۔ ان تمام نمازوں کی تفصیل اور احکام آپ اگلے صفحات پر ملاحظہ فرمائیں گے۔ نماز وتر نفل نماز کے بارے میں ہم اپنی بات کا آغاز نماز وتر سے کرتے ہیں کیونکہ اس کی خاص اہمیت ہے۔ کہا جاتا ہے کہ نفل نمازوں میں نماز وتر کی سب سے زیادہ تاکیدہے بلکہ بعض علماء تو اس کے وجوب کے قائل ہیں۔ اور جس مسئلہ کے واجب یا غیرواجب ہونے میں اختلاف ہو اس کی تاکید واہمیت اس عمل سے زیادہ ہی ہوگی جس کے غیر واجب ہونے پر اتفاق ہے۔ نماز وتر کی مشروعیت پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے اور اس کا چھوڑنا کسی مسلمان کے لائق نہیں۔جو شخص ترک وتر پر اصرار کرے اس کی شہادت مردود ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے:"جس نے وتر کی نماز عمداً چھوڑدی وہ برا آدمی ہے اور اس لائق ہے کہ اس کی شہادت قبول نہ کی جائے۔[2] سنن ابو داؤد میں مرفوع روایت ہے: [1] ۔سنن ابن ماجہ الطہارۃ وسننھا باب المحافظۃ علی الوضوء حدیث277والموطا للامام مالک الطہارۃ باب جامع الوضوء 1/34حدیث 36۔ [2] المغنی لا بن قدامۃ 1/829۔