کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 139
5۔پھر 33 مرتبہ(سبحان اللّٰهِ)اور33مرتبہ(الحمدلِلّٰهِ)33مرتبہ(اللّٰهُ اكبر) اور سو کی گنتی پورا کرنے کے لیے ایک مرتبہ پڑھیں: "لا إله إلا اللّٰه وحده لا شريك له ، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير" 6۔پھر آیۃ الکرسی اور تینوں "قل"ایک ایک بار پڑھیں۔ 7۔بعد نماز مغرب اور فجر دس مرتبہ ("لا إله إلا اللّٰه وحده لا شريك له ، له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير")پڑھیں اور سات مرتبہ:"اللّٰهُم أجرني من النار"پڑھیں۔ 8۔مغرب اور فجر کی نمازوں کے بعد تینوں "قل" تین بار پڑھنا مستحب ہے۔ نماز کے بعد لاالٰه الا اللّٰه ‘سبحان اللّٰه ‘الحمدلِلّٰهِ، اور اللّٰهُ اكبر کے کلمات انفرادی طور پر باآواز پڑھے جائیں تو مستحب ہے۔[1]البتہ انھیں اجتماعی طور پر اور مل کر ایک آواز سے پڑھنا درست نہیں۔ تسبیحات ،تحمیدات اور تکبیرات وغیرہ کی تعداد کو انگلیوں کی گرہوں پر شمار کیا جائے کیونکہ روز قیامت (پڑھنے والے کے حق میں بطور شہادت )ان کو بولنے کی قوت ملے گی ۔[2](علاوہ ازیں یہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہے)۔ اذکار و تسبیحات کے لیے موجودہ" تسبیح "کا استعمال مباح ہے۔ بشرطیکہ اس کو استعمال کرنے والا اسے باعث فضیلت نہ سمجھتا ہو ورنہ (بعض علماء کے نزدیک )اس کا استعمال مکروہ بلکہ بدعت ہے، چنانچہ کئی صوفیاء کو دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنے گلوں میں ہار کی طرح تسبیح لٹکائے پھرتے ہیں یا ہاتھوں میں کنگن کی طرح سجائے رکھتے ہیں۔ ایسی صورت میں یہ کام نہ صرف بدعت ہے بلکہ ریا کاری اور تکلف کے زمرے میں بھی آتا ہے۔ نمازی اذکار مذکورہ سے فارغ ہو کر انفرادی طور پر حسب خواہش سراً دعا کرے کیونکہ عبادت اور اذکار کے بعد دعا کی قبولیت کا بہت مناسبت موقع ہے۔ فرض نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا نہ کی جائے ،جیسا کہ بعض لوگوں کی عادت ہے کیونکہ یہ بدعت ہے ،البتہ نفلی نماز کے بعد کبھی کبھار ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔ [1] ۔یہ بعض علماء کی رائے ہے جو صحیح بخاری کی حدیث نمبر841 سے استدلال کرتے ہیں ۔جبکہ دوسرے علماء مقتدیوں کے لیے ایک دفعہ بلند آواز سے اللہ اکبر کے سوامزید جہری ذکر کے قائل نہیں ۔دیکھیے فتاوی الدین الخالص 4/429(ع۔و) [2] ۔سنن ابی داؤد الوتر باب الشیخ بالحصی حدیث 1501وجامع الترمذی الدعوات باب فی فضل التسبيح والتھلیل والتقدیس حدیث 3583ومسند احمد 6/370۔371۔