کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 138
"كان في ذمة اللّٰه إلى الصلاة الأخرى " "وہ شخص دوسری نماز تک اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں رہے گا۔"[1] سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: "أَمَرَنِي رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْرَأَ بِالمُعَوِّذَتَيْنِ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاَةٍ" "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہر نماز کے بعد معوذات (سورۃ اخلاص ،سورۃ فلق اور سورۃ ناس) پڑھنے کا حکم دیا۔[2] مندرجہ بالا احادیث سے واضح ہوا کہ فرض نمازوں کے بعد اذکار مذکورہ مسنون اور مشروع ہیں اور انھیں پڑھنے کا بہت زیادہ اجروثواب ہے ،لہٰذا ہمیں چاہیے کہ مسنون طریقے سے ان وظائف کو پڑھنے کا اہتمام کریں ۔یہ اذکار نماز کے فوراً بعد نماز کے مقام سے کھڑا ہونے سے قبل ادا کرنے چاہئیں جس کی ترتیب اس طرح ہو سکتی ہے۔ 1۔ سلام کے بعد (بلند آواز سے تکبیر کہہ کر) تین بار (استغفر اللّٰه) پڑھیں۔ 2۔پھر پڑھیں: "اللّٰهُمَّ أَنْتَ السَّلامُ ، ومِنكَ السَّلامُ ، تباركْتَ يَاذا الجلالِ والإكرام" 3۔پھر پڑھیں؛ "لَا إِلَهَ إلا اللّٰه وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ له له الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وهو على كل شَيْءٍ قَدِيرٌ اللّٰهُم لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ ولا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ ولا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ" 4۔اس کے بعد یہ کلمات پڑھیں: "لا إله إلا اللّٰه وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير لا حول ولا قوة إلا باللّٰه لا إله إلا اللّٰه ولا نعبد إلا إياه له النعمة وله الفضل وله الثناء الحسن لا إله إلا اللّٰه مخلصين له الدين ولو كره الكافرون" [1] ۔(ضعیف) المعجم الکبیر للطبرانی 3/85 حدیث 2733وسلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ للالبانی رقم 5135۔ [2] ۔سنن النسائی السہو باب الامر بقراءۃ المعوذات بعد التسلیم من الصلاۃ حدیث 1337۔ وسنن ابی داؤد ،الوتر، باب فی الاستغفار حدیث 1523۔وجامع الترمذی فضائل القرآن باب ماجاء فی الموذتین، حدیث 2903۔واللفظ لہ۔