کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 134
اگر کسی کو نماز کے رکن چھوٹ جانے پر شک ہو تو وہ اس رکن اور رکن کے بعد والی ایک رکعت کے ارکان دوبارہ ادا کرے جس کی تفصیل گزر چکی ہے۔ اگر کسی واجب کے چھوٹ جانے میں شک ہوتو اس شک کو معتبر نہ سمجھے اور سجدہ سہو نہ کرے۔ اسی طرح اگر کسی واجب کی زیادتی میں شک ہوتو اسے قابل التفات نہ سمجھے کیونکہ اصل چیز کمی یا زیادتی کا نہ ہونا ہے۔ یہ سجدہ سہو کے چند احکامات تھے جو ہم نے بیان کر دیے،تفصیل کا طالب بڑی کتب کی طرف رجوع کرے۔واللہ الموفق۔ نماز کے بعد کے اذکار اور وظائف اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِيرًا (41) وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا" "مسلمانو!اللہ کا ذکر بہت زیادہ کرو۔ اور صبح و شام اس کی پاکیزگی بیان کرو۔"[1] اللہ تعالی نے قرآن مجید میں عبادات کی ادائیگی کے بعد ذکر کرنے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے: "فَإِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلاةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِكُمْ" "پھر جب تم نماز ادا کر چکو تو اٹھتے، بیٹھتےاور لیٹےہوئے اللہ کا ذکر کرتے رہو۔"[2] اور فرمان الٰہی ہے: "فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِن فَضْلِ اللّٰهِ وَاذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ" "پھر جب نماز ہو چکے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور بکثرت اللہ کا ذکر کیا کرو تاکہ تم فلاح پالو۔"[3] اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ رمضان المبارک کے روزے مکمل کرنے کے بعد ذکر کریں۔ ارشاد ہے: "وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلَى مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ" "وہ چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کر لو اور اللہ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا [1] ۔الاحزاب 33۔41۔42۔ [2] ۔النساء:4/103۔ [3] ۔الجمعۃ 62۔10۔