کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 131
ذریعے سے شیطان ذلیل ہو جاتا ہے، رحمان راضی ہو جاتا ہے اور نماز کی کمی پوری ہو جاتی ہے۔ علمائے کرام اس سجدےکو" سجدہ سہو" کا نام دیتے ہیں۔ سہو کا معنی "بھول جاناہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم متعدد بار نماز میں بھول گئے تھے۔ آپ کی یہ بھول امت محمدیہ پر اللہ کی نعمت کا تمام اور دین کی تکمیل کا سبب ثابت ہوئی تاکہ بھول چوک کے وقت وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی پیروی کر سکیں ۔ بھول چوک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جملہ واقعات کتب احادیث میں محفوظ ہیں۔ ایک بار آپ نے چار رکعات کی بجائے دورکعتیں پڑھا کر سلام پھیردیا۔ پھر باقی دورکعات پڑھ کر نماز مکمل کی آخر میں سلام سے قبل سجدہ سہو کر لیا۔ ایک دفعہ تین رکعات پڑھا کر سلام پھیردیا تو پھر ایک رکعت مزید پڑھی اور سجدہ سہو کر لیا۔ ایک موقع پر دورکعتیں پڑھا کر کھڑے ہوگئے اور درمیانی تشہد میں نہ بیٹھے تو آخرمیں سجدہ سہو ادا کردیا وغیرہ اور آپ نے فرمایا: "إِذَا سَهَا أَحَدُكُمْ في صلاته ، فَلَمْ يَدْرِ أَزَادَ أَم نَقَصَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ " "تم میں سے جب کوئی نماز میں بھول جائے۔ اسے معلوم نہ ہو کہ کتنی نماز پڑھی ہے زیادتی ہوئی ہے یا کمی؟ تو وہ دو سجدے کرے۔"[1] تین صورتوں میں سے کوئی ایک صورت پیش آجائے تب سجدہ سہو مشروع ہوتا ہے: (1)جب بھول کر نماز میں کوئی زیادتی ہو جائے۔ (2)یا نماز میں کوئی کمی واقع ہو جائے۔(3)نماز کے دوران میں کسی شے کی کمی بیشی میں شک پڑجائے۔ ان صورتوں میں سے کوئی صورت پیش آجائے سجدہ سہو لازمی ہے جس کی دلیل اور طریقہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود ہے۔ واضح رہے کہ کمی بیشی یا ہر شک سجدہ سہو کرنے کا سبب نہیں بنتا بلکہ اس مسئلہ میں جوسنت رسول ہے اس پر عمل کیا جائے گا جس کی تفصیل آپ آئندہ صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔ جب سجدہ سہوکرنے کا سبب پیدا ہو جائے تب وہ مشروع ہو جاتا ہے خواہ فرض نماز ہو یا نفل کیونکہ دلائل میں عموم ہے۔ نماز میں بھول چوک کے سبب سجدہ سہو کے بارے میں مندرجہ بالا تین حالتوں کی وضاحت اور تفصیل درج ذیل ہے: 1۔بھول کر نماز کے افعال یا اقوال میں زیادتی ہو جائے۔ افعال میں زیادتی سے مراد جنس نماز کے افعال ہیں۔ [1] ۔جامع الترمذی الصلاۃ باب فی من یشک فی الزیادۃ والنقصان،حدیث 398 وشرح السنۃ للبغوی 3/282 حدیث 755 وکنزالعمال :7/473۔حدیث 19843واللفظ لہ۔