کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 130
مُسْلِمُونَ" [1] پڑھتے، جب کہ دوسری رکعت میں سورہ آل عمران کی آیت: "قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللّٰهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ"[2] پڑھتے تھے۔"[3] واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد:"فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ  " "سو تم بہ آسانی جتنا قرآن پڑھ سکو پڑھو۔"[4] میں عموم ہے ،یعنی قرآن مجید کےکسی بھی مقام سے نمازمیں قراءت ہوسکتی ہے۔ (7)۔دوران قراءت اگر ایسی آیت کی تلاوت ہوجس میں عذاب کا ذکر ہو تو نماز اداکرنے والا اللہ کی پناہ طلب کرے اور اگررحمت کے ذکر پرمشتمل آیت آئے تو اللہ تعالیٰ سے اس کا سوال کرے۔اگر قراءت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آئے تو درودشریف( صلی اللہ علیہ وسلم ) پڑھے کیونکہ اس کی بہت تاکید آئی ہے۔ یہ چند امور ہیں جو حالت نماز کےلیے مستحب اور مباح ہیں۔ہم نے ان کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ آپ بوقت ضرورت ان سے مستفید ہوسکیں۔نیز آپ کو ان مسائل سے واقفیت اور بصیرت حاصل ہو۔ نماز ایک عظیم عبادت ہے اس میں وہی کام اور بات درست ہے جو ان شرعی حدود کے اندر ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وارد ہیں،لہذا آپ ان حدود کا خیال رکھیں اور جن اُمور سے نماز مکمل ہوتی ہو یا اس میں نقص آتا ہو ان سے واقفیت حاصل کریں تاکہ آپ اپنی نماز کامل طور پر ادا کرسکیں۔ سجدہ سہو کا بیان انسان بھول چوک کا نشانہ بن جاتا ہے اور شیطان کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ وہ نمازی کو اثنائے نماز میں مختلف افکار اور اشغال میں الجھا کر رکھے ۔ بسا اوقات اس بھول چوک کے نتیجے میں نماز میں کمی بیشی بھی ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت حال میں اللہ تعالیٰ نے نمازی کو نماز کے آخر میں سجدہ کرنے کا حکم دیا ہے جو ایک فدیہ ہے اور اس کے [1] ۔البقرہ2۔136۔ [2] ۔آل عمران3/64۔ [3] ۔ صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب استحباب رکعتی سنۃالفجر۔حدیث 727۔ [4] ۔المزمل 73/20۔