کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 127
مسلمان سے یہ بھی مطلوب ہے کہ وہ حضور قلب اور خشوع وخضوع کے ساتھ نماز قائم کرے اور اس کی معاون صورتوں کو اپنائے جو چیزیں خشوع وخضوع کے خلاف ہیں انھیں چھوڑدے تاکہ اس کی نماز کامل اور صحیح ہو اور ذمہ داری ادا ہو جائے۔ظاہری اور حقیقی طور پر اس کی نماز ہونہ کہ صرف ظاہری نماز ہو۔اللہ تعالیٰ اس کی توفیق دے۔ نماز کے مستحبات اور مباحات (1)۔نماز کے دوران میں آگے قریب سے گزرنے والے شخص کو روک دینا مسنون ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ يُصَلِّي فَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ فَإِنَّ معه القرين " "جب کوئی شخص نماز ادا کررہاہوتو وہ کسی کو اپنے آگے سےگزرنے نہ دے،اگر وہ باز نہ آئے تو اس سے لڑائی کرے کیونکہ اس کے ساتھ اس کا ساتھی(شیطان) ہے۔"[1] جب نمازی کے آگے سترہ ہو تو تب سترے کے پیچھے سے گزر جانے میں کوئی حرج نہیں۔اگر نمازی کے آگے جگہ تنگ ہو اور آگے گزرنے کی شدید ضرورت ہوتو تب نماز ادا کرنے والا اسے پیچھے نہ ہٹائے کیونکہ اس صورت میں آگے گزرنے والا مجبور ہے۔اسی طرح اگرکوئی شخص حرم میں نماز پڑھ رہا ہوتو وہ بھی آگے سے گزرنے والے شخص کو نہ روکے کیونکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں نماز ادا کرتے تھے تو لوگ آگے سے گزرجاتے تھے حالانکہ آپ کے آگے سترہ نہ ہوتاتھا۔[2] جب نماز ادا کرنے والا اکیلا ہویاامام ہوتو تب سترے کا استعمال مسنون ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ ، فَلْيُصَلِّ إِلَى سُتْرَةٍ وَلْيَدْنُ مِنْهَا" "جب کوئی شخص نماز ادا کرے تو وہ سترہ سامنے رکھے اور اس کے قریب ہو۔"[3] [1] ۔صحیح مسلم الصلاۃ باب منع الماربین یدی المصلی حدیث 506۔ [2] ۔(ضعیف) سنن ابی داود المناسک باب فی مکۃ حدیث 2016 وسنن النسائی القبلۃ باب الرخصۃ فی ذلک حدیث 759 وسنن ابی ماجہ المناسک باب الرکعتین بعد الطواف حدیث 2958 ومسند احمد 6/399، لہذا حرم میں بھی نمازی کے آگے سے گزرنے سے اجتناب کرنا چاہیے، الا یہ کہ شدید مجبوری ہو۔ [3] ۔سنن ابی داود الصلاۃ باب ما یؤمر المصلی ان یدرا۔حدیث 698۔