کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 124
کسی شدید ضرورت کی وجہ سے دائیں بائیں دیکھنا پڑ جائے تو کوئی حرج نہیں،مثلاً:خوف کی حالت ہویاکوئی اور معقول وجہ ہو۔[1] اگرکوئی شخص اپنے تمام جسم سمیت نماز میں گھوم گیا یا حالت خوف کے بغیر کعبہ کی طرف پشت کرلی تو اس کی نماز باطل ہوگی کیونکہ اس نے سمت کعبہ بلاعذر ترک کی ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ حالت خوف میں نماز کے دوران میں دائیں بائیں دیکھ لیا جائے تو مضائقہ نہیں کیونکہ جنگ میں اس کی ضرورت پڑجاتی ہے ،حالت خوف کےعلاوہ اگر کسی ضرورت کے تحت صرف چہرہ اور سینہ پھیرلے تو کوئی حرج نہیں۔اگر بلاضرورت ہوتو مکروہ ہے بلکہ اس نے سارا بدن جانب کعبہ سے پھیر لیا تو نماز باطل ہوجائے گی۔[2] (2)۔نماز کے دوران آسمان کی طرف دیکھنا مکروہ ہے آپ نے اسے ناپسند کرتے ہوئے فرمایا: " ما بال أَقْوَام يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي صَلَاتِهِمْ؟ فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى قَالَ : لَيَنْتَهِيَنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَتخطفن أَبْصَارهُمْ" "لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ نماز میں آسمان کی طرف نگاہیں اٹھاتے ہیں؟بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے فرمایا:"یہ لوگ(ایسی حرکت سے)باز آجائیں یا پھر اللہ تعالیٰ ان کی نگاہیں چھین لے گا۔"[3] پچھلے صفحات پر ہم بیان کرچکے ہیں کہ حالت نماز میں نمازی کی نظر مقام سجدہ پر رہنی چاہیے،ادھراُدھر دیکھنا،نگاہ کو آوارہ رکھنا،سامنے دیواروں پر بنے ہوئے نقش ونگار یا تحریروں کو دیکھنا ایک مسلمان کے لائق نہیں کیونکہ یہ چیز نماز سےغافل کردیتی ہے اور روح نماز(خشوع وخضوع) کو ختم کردیتی ہے۔ (3)۔نمازمیں بلا ضرورت آنکھیں بند کرنا بھی مکروہ ہے کیونکہ یہودایسا کیاکرتے تھے۔البتہ کسی نے کسی مقصد کی خاطر ایسا کیا تو کوئی حرج نہیں،مثلاً:اس کے سامنے کوئی ایسی چیز ہے جو اس کی نماز کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے جیسے نقش ونگار یا بیل بوٹے وغیرہ۔اس بارے میں ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے جو کچھ لکھا ہے،اس کا یہی مفہوم ہے۔[4] (4)۔نماز میں"اقعاء" کی صورت میں بیٹھنا مکروہ ہے،جس کی صورت وشکل یہ ہے کہ"آدمی اپنے پاؤں کے تلوے زمین پر لگا کر رانوں اور پنڈلیوں کو کھڑاکرکے اپنے چوتڑ پر بیٹھ جائے۔"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو نصیحت [1] ۔صحیح البخاری الاذان باب اھل العلم والفضل احق بالامامۃ حدیث 680 وسنن ابی داود الجھاد باب فی فضل الحرس فی سبیل اللّٰه عزوجل حدیث 2501۔ [2] ۔بعض علماء نے چہرہ اور سینہ پھیرنے پر نماز کے باطل ہونے کا حکم لگایا ہے۔دیکھئے فتاویٰ الدین الخالص 1/61(ع۔و) [3] ۔صحیح البخاری الاذان باب رفع البصر الی السماء فی الصلاۃ حدیث 750۔ [4] ۔زاد المعاد 1/294۔