کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 123
کلمات سلام کی ابتدا قبلہ کی طرف منہ کرکے کرتے اور آخری کلمہ ادا کرنے تک چہرہ مکمل طور پر دائیں یابائیں طرف پھیر لیتے تھے۔ (20)۔جب آپ سلام پھیر لیتے تو تین مرتبہ استغفر اللہ(میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت کاطلب گار ہوں) کہتے اور پھر یہ کلمات کہتے: "اللّٰهُمَّ أنْتَ السَّلاَمُ، وَمِنْكَ السَّلاَمُ، تَبَارَكْتَ يَا ذَا الجَلالِ والإكْرَامِ" "اے اللہ!تو سلامتی والاہے اور سلامتی تیری ہی طرف سے ہے،اے جلال وعزت کےمالک تو برکت والاہے۔"[1] (21)۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ د عائیں پڑھتے جو کتب احادیث میں محفوظ اور موجود ہیں۔ اےمسلمان! کتاب وسنت کی روشنی میں نماز کا یہ مختصر سابیان ہے۔آپ کو چاہیے کہ اپنی نمازمیں ان چیزوں کاخوب اہتمام کریں تاکہ آپ کی نماز حتی الامکان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے مطابق ہو۔اللہ تعالیٰ کاارشاد گرامی ہے: "لَقَدْ كانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كانَ يَرْجُوا اللّٰهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللّٰهَ كَثِيراً" "یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ میں عمدہ نمونہ(موجود) ہے،ہراس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتاہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کویاد کرتا ہے۔"[2] اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اچھے اعمال کی توفیق دے اور انھیں شرف قبولیت سےنوازے۔آمین مکروہات نمازکابیان (1)۔نماز میں چہرے کو پھیر کر ادھر اُدھر دیکھنا مکروہ ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "هُوَ اخْتِلاَسٌ يَخْتَلِسُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلاَةِ الْعَبْدِ" "(ادھر اُدھر دیکھنا) یہ نقصان ہے اور شیطان بندےکی نماز میں نقصان کرتاہے۔"[3] [1] ۔صحیح مسلم المساجد باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ وبیان صفتہ حدیث 592۔ [2] ۔الاحزاب 33/21۔ [3] ۔صحیح البخاری الاذان باب الالتفات فی الصلاۃ حدیث 751۔