کتاب: فقہی احکام و مسائل(جلد1) - صفحہ 121
(12)۔پھر آپ اللہ اکبر کہہ کر سجدہ میں چلے جاتے[1] اور اسی طرح کرتے جس طرح پہلے سجدے میں کیاتھا۔ (13)۔پھر اللہ اکبر کہہ کر سرمبارک اٹھاتے [2]اور قدموں کےاگلے حصوں کے سہارے کھڑے ہوجاتے۔[3]علاوہ ازیں اپنے گھٹنوں اور رانوں سے(اٹھتے وقت) سہارا لیتے تھے۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اچھی طرح کھڑے ہوجاتے تو قراءت شروع کرتے اور پھر دوسری رکعت اسی طرح پڑھتے جس طرح پہلی رکعت پڑھتے تھے۔ (14)۔پھر تشہد اول کے لیے یوں بیٹھتے جس طرح دو سجدوں کے درمیان بیٹھتے تھے۔دایاں ہاتھ دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھتے۔دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کودرمیان والی انگلی کےساتھ ملا کر حلقہ کی شکل بنالیتے تھے۔شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے اور اس پر نظر رکھتے[4] پھر یہ کلمات پڑھتے تھے۔[5] "التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" "تمام قولی،بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔اے نبی! آپ پرسلام ہو،اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکات ہوں،ہم پر اور تمام اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں۔اور میں گواہی دیتاہوں کہ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔"[6] آپ درمیانے تشہد کے لیے تھوڑی دیر بیٹھتے تھے۔ (15)۔پھر آپ تکبیر کہتے ہوئے کھڑے ہوجاتے[7] اس موقع پر رفع الیدین کرتے تھے۔[8]اورتیسری پھر [1] ۔ صحیح البخاری الاذان باب یھوی بالتکبیر حین یسجد حدیث 803۔ [2] ۔ صحیح البخاری الاذان باب یھوی بالتکبیر حین یسجد حدیث 803۔ [3] ۔ (ضعیف) جامع الترمذی ،الصلاۃ ،باب منہ ایضا ،حدیث 288 اور صحیح یہ ہے کہ دوسری اور چوتھی رکعت کے لیے اُٹھتے وقت دونوں ہاتھوں کو زمین پر لگایا جائے اوران کے سہارے کھڑا ہوا جائے جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے۔ صحیح البخاری الاذان حدیث باب کیف یعتمد علی الارض اذا قام من الرکعۃ حدیث 824 اسی طرح دوسری اور چوتھی رکعت کے لیےاٹھتے وقت جلسہ استراحت کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا،نیز حدیث مسئی الصلاۃ میں آپ نے اس کاحکم بھی دیا ہے۔دیکھئے صحیح البخاری حدیث 757۔ [4] ۔ سنن ابی داود الصلاۃ باب کیف الجلوس فی التشھد حدیث 957۔ [5] ۔ سنن ابی داود الصلاۃ باب الاشارۃ فی التشھد حدیث 990 ومسند احمد 3/4۔ [6] ۔صحیح البخاری الاذان باب التشھد فی الآخرۃ حدیث 831،وصحیح مسلم الصلاۃ باب التشھد فی الصلاۃ حدیث 402۔ [7] ۔صحیح البخاری الاذان باب یھوی بالتکبیر حین یسجد حدیث803۔ [8] ۔ صحیح البخاری الاذان باب رفع الیدین اذا قام من الرکعتین حدیث 739۔