کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 117
مسنون ہے۔علاوہ ازیں آخری تشہد میں درج ذیل دعا کا پڑھنا: "اللّٰهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ ، وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ" "اے اللہ میں عذاب جہنم،عذاب قبر ،زندگی اور موت کے فتنوں اور مسیح دجال کے فتنے سے بچنے کے لیے تیری پناہ کاطالب ہوں۔"[1] اس دعا کے علاوہ مزید دعاؤں کا پڑھنا سنن نماز میں شامل ہے۔ دوسری قسم: افعال مسنونہ،یعنی وہ سنن جن کاتعلق عمل سے ہے،مثلاً:تکبیر تحریمہ کے وقت یارکوع جاتے اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدین کرنا،دائیں ہاتھ کو بائیں پر رکھنا۔حالت قیام میں دونوں ہاتھوں کو سینے پر یا ناف کے نیچے باندھنا [2] سجدہ کی جگہ پر نظر رکھنا،رکوع میں دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں پر رکھنا سجدے میں پیٹ کو رانوں سے اور رانوں کو پنڈلیوں سے جدا کرکے رکھنا ،رکوع کی حالت میں کمر کو اعتدال پر رکھنا۔سرکو کمر کے برابر اس طرح رکھنا کہ اٹھا ہواہونہ جھکا ہوا ۔سجدہ کی جگہ پر پیشانی اور ناک وغیرہ اعضاء کو اچھی طرح زمین پر ٹکانا۔اس کے علاوہ اور بھی نماز کی سنن ہیں جن کی تفصیل کتب فقہ میں موجود ہے۔ ان تمام سنن کو نماز میں ادا کرنا فرض یا واجب نہیں،البتہ ان کو ادا کرنے سے اجروثواب میں اضافہ ضرور ہوگا۔نماز مکمل ہوگی اورمسنون ہوگی۔(اور مسنون نماز ہی مطلوب ہے۔) بعض نوجوان نماز کی سنن کے معاملہ میں انتہا پسندی اور تشدد کی راہ اختیار کرتے ہیں،جس سے عملی طور پر عجیب وغریب صورتیں دیکھنے میں آتی ہیں،مثلاً:بعض لوگ قیام میں اس قدر سرجھکا کر کھڑے ہوتے ہیں کہ وہ رکوع کی حالت کے قریب قریب دکھائی دیتے ہیں۔کئی اپنے ہاتھوں کو سینے پر یا ناف کےنیچے باندھنے کی بجائے گلے کے قریب یا(ناف سے بہت نیچے) باندھتے ہیں۔اسی طرح وہ سُترہ کے بارے میں بھی سخت رویہ اختیار کرتے ہیں حتیٰ کہ نفلی نماز اداکرتے وقت صف میں قیام کو چھوڑ کردوسری جگہ سترہ ڈھونڈنے کے لے چلے جاتے ہیں، بعض لوگ سجدہ کی حالت میں سربہت آگے بڑھادیتے ہیں اور پاؤں پیچھے لے جاتے ہیں [1] ۔صحیح البخاری الاذان باب الدعاء قبل السلام حدیث 832 وصحیح مسلم المساجد باب ما یستعاذ منہ فی الصلاۃ حدیث 588 واللفظ لہ۔ [2] ۔ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کی تمام روایات ضعیف ہیں،لہذا سینے ہی پر ہاتھ باندھنا مسنون ہے۔(صارم)