کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 116
وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ" "تمام قولی،بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔اے نبی !آپ پرسلام ہو،اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکات ہوں،ہم پر اور تمام اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو۔میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں۔اور میں گواہی دیتاہوں کہ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور رسول ہیں۔"[1] 8۔تشہد اول کے لیے بیٹھنا واجب ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ہمیشگی فرمائی ہے۔نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے: "صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي" "تم ایسے نماز پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔"[2] (1)۔جس شخص نے ان قولی یا فعلی آٹھ واجبات میں سے کسی ایک کو عمداً چھوڑدیا تو اس کی نماز باطل ہوگی کیونکہ وہ نماز کو ایک کھیل اور شغل سمجھ رہا ہے ۔اور اگر اس سے بھول کر یا لا علمی کی وجہ سے چھوٹ گیا تو وہ سجدہ سہو کرے کیونکہ اس نے ایک ایسے واجب کو ترک کیا ہے جسے ترک کرنا حرام ہے،لہذا سجدہ سہو سے اس کمی کو پورا کرے۔ نماز کی سنتیں نماز کے مذکورہ اقوال وافعال کے علاوہ باقی سب کام سنت کادرجہ رکھتے ہیں ۔جن کےترک سے نماز باطل نہیں ہوتی۔نماز کی سنتوں کی دو قسمیں ہیں: پہلی قسم:اقوال مسنونہ،یعنی وہ سنتیں جن کا تعلق زبان سے ہے،ان میں چند یہ ہیں: دعائے استفتاح،تعوذ،تسمیہ،آمین کہنا،اس کے علاوہ نماز فجر،نمازجمعہ،نماز عید،نماز کسوف میں اور مغرب،عشاء،ظہراور عصر کی نمازوں کی پہلی دو رکعتوں میں فاتحہ کے علاوہ قراءت کرنا۔اسی طرح ربنا ولک الحمد کہنے کے بعد یہ کلمات کہنا: "مِلْءُ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءُ الْأَرْضِ وَمِلْءُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ" "آسمان کو بھر کر اور زمین کو بھر کر اور اس کے بعد(اے اللہ) جسے تو چاہے اے بھرکر(تیرے لیے حمدوثنا ہو۔)"[3] رکوع اورسجدہ میں ایک بار سے زائد تسبیحات کہنا،دوسجدوں کے درمیان "رَبِّ اغْفِرْ لِي" ایک سے زائد بار کہنا [1] ۔صحیح البخاری ،الاذان ،باب التشھد فی الآخرۃ حدیث 831،وصحیح مسلم الصلاۃ باب التشھد فی الصلاۃ حدیث 402۔ [2] ۔صحیح البخاری الاذان باب الاذان للمسافرین اذا کانوا جماعۃ والاقامۃ حدیث 631۔ [3] ۔صحیح مسلم الصلاۃ باب اعتدال ارکان الصلاۃ ۔۔۔حدیث :471۔