کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 110
سے بھی ایسی ہی نماز پڑھنے کامطالبہ ہے۔ارشاد نبوی ہے: "صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي" "تم ایسے نماز پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔"[1] ارکان نماز کی تفصیل 1۔فرض نماز میں قیام کرنا:اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے: "وَقُومُوا لِلّٰهِ قَانِتِينَ" "اللہ کے لیے خشوع وخضوع کے ساتھ کھڑے ہوجاؤ۔"[2] سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "صَلِّ قَائِمًا ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ" "کھڑے ہوکر نماز اداکرو،اگرطاقت نہ ہوتو بیٹھ کرادا کرلو،اگر اس کی بھی طاقت نہ ہوتو پہلو کے بل لیٹ کر ہی پڑھو۔"[3] اس سے واضح ہواکہ طاقت ہوتو فرض نماز میں قیام(کھڑا ہونا) فرض ہے،البتہ بیماری کے باعث کھڑا ہونے پر قدرت نہ ہوتو حسب حال بیٹھ کریالیٹ کر نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ اسی طرح کسی خوف میں مبتلا مریض یاننگا شخص ہوتوان کے لیے بھی یہی حکم ہے۔اورجو شخص کسی عذر کی وجہ سے نماز میں کھڑا نہیں ہوسکتا بلکہ اسے بیٹھنے یا لیٹنے کی ضرورت ہے یاکوئی شخص چھت نیچی ہونے کی وجہ سے نمازمیں کھڑا نہیں ہوسکتا اور کسی وجہ سے اس کے لیے چھت سے باہرآنا بھی ممکن نہیں یاکوئی مقررامام کے پیچھے کھڑے ہوکر لمبی قراءت سننے سے عاجز ہے تو یہ لوگ معقول عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نماز ادا کرسکتے ہیں۔ اگر امام نےبیٹھ کر نماز ادا کرنا شروع کی تو اس کے مقتدی بھی(امام کی اقتدا کی بنا پر) بیٹھ جائیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب(گھوڑے سے گرنے پرزخمی ہونے کی وجہ سے) بیٹھ کر نماز پڑھائی تھی تو دوسرے نمازیوں کو بھی بیٹھنے کاحکم دیاتھا۔[4] نفلی نماز کھڑے یا بیٹھے دونوں طرح ادا کرنا جائز ہے،اس میں کھڑا ہونا فرض نہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نفل نماز کبھی بلاعذر بیٹھ کر ادا کرلیاکرتے تھے۔(البتہ کھڑے ہوکر پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔) 2۔تکبیرتحریمہ:تکبیر تحریمہ ،یعنی اللہ اکبرکہنا(ا س سے انسان نماز میں داخل ہوتاہے) نماز کا رکن ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم [1] ۔صحیح البخاری الاذان باب الاذان للمسافرین اذا کانوا جماعۃ والاقامۃ۔۔۔۔۔ حدیث 631۔ [2] ۔البقرۃ: 2/238۔ [3] ۔صحیح البخاری التفسیر باب اذا لم یطق قاعدا صلی علی جنب،حدیث 1117 وسنن ابی داود،الصلاۃ،باب فی صلاۃ القاعد حدیث 952 وجامع الترمذی الصلاۃ باب ماجاء ان صلاۃ القاعد علی النصف من صلاۃ القائم حدیث 372۔ [4] ۔صحیح البخاری الاذان باب انما جعل الامام لیوتم بہ حدیث 688۔689 وصحیح مسلم الصلاۃ باب اتمام الما موم بالامام حدیث 411۔414۔