کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 109
"صفوں کو درست کرو اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اور جڑ کر کھڑے ہو۔"[1] خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفوں کو درست کرتے اور مقتدیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھڑے ہونے کی تلقین کرتے تھے۔یہ امراس مسئلے کی اہمیت وفائدے کو اجاگر کرتا ہے۔ واضح رہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ ملنے اور جڑنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کوئی پاؤں کو کھول کرٹیڑھا کرے اور دائیں بائیں والے نمازیوں کو تنگی وتکلیف میں ڈال دے کیونکہ اس قسم کی حرکت سے فاصلہ اور کشادگی بند ہونے کی بجائے بڑھتی ہے اور نمازیوں کے لیے باعث تکلیف ہے،جس کی شریعت میں کوئی دلیل نہیں۔مسلمانوں کو ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع واطاعت ہو اور ہراعتبار سے نماز مکمل ہو۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسے اعمال کی توفیق دے جواس کے ہاں محبوب اور پسندیدہ ہوں۔آمین! نماز کے ارکان ،واجبات اور سنن کے احکام نماز ایک عظیم عبادت ہے جو مخصوص اقوال اور افعال سے مل کرایک اعلیٰ شکل اختیار کرتی ہے۔اہل علم نے نماز کی تعریف یوں کی ہے: "نماز کچھ مخصوص اور مقرر اقوال وافعال کا نام ہے،جس کاآغاز تکبیر تحریمہ سےہوتا ہے اور اختتام سلام پھیرنے پر ہوتا ہے۔" یہ اقوال وافعال تین قسم کے ہیں۔ارکان ،واجبات اور سنن۔ہرایک کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں: ارکان: رکن کی یہ اہمیت ہے کہ اگر اسے ارادتاً یا بھول کر چھوڑدیاجائے تو پوری نماز باطل اورضائع ہوجاتی ہے یاوہ رکعت باطل ہوجاتی ہے جس میں رکن چھوٹ گیا ہو۔اور بعد والی رکعت اس کے قائم مقام ہوجاتی ہے۔تفصیل آگے ملاحظہ فرمائیں گے۔ واجبات: اگر واجب عمداً چھوڑدیاجائے تو نماز باطل ہوجائےگی اور اگربھول کررہ جائے تو نماز باطل نہ ہوگی،البتہ سجدہ سہو سے کمی پوری ہوجائےگی۔ سنن: کسی سنت کے عمداً یا سہواً چھوٹ جانے سے نماز باطل نہیں ہوتی،البتہ نماز کی مسنونہ ہئیت میں نقص لازم آجاتا ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کامل نماز ادا کی ہے جس میں جملہ ارکان،واجبات اور سنن کو ادا فرمایا ہے اور امت [1] ۔صحیح البخاری، الاذان، باب اقبال الامام علی الناس۔۔۔حدیث 719۔