کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 108
(9)۔آپ کو امام کے قریب جگہ لینی چاہیے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "وَلِيَلِنِي مِنكُمْ أُولو الأَحْلامِ والنُّهَى" "میرے قریب وہ لوگ کھڑے ہوں جو عقل مند اور سمجھ دار ہیں۔"[1] واضح رہے یہ حکم مردوں کے لیے ہے،البتہ عورتوں کے بارے میں اس کے برعکس حکم ہے،یعنی : "خَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا""عورتوں کی آخری صف بہترین صف ہے۔"[2] اس کی وجہ یہ ہے کہ آخری صف والی عورتوں پر مردوں کی نگاہ نہیں پڑتی۔ (10)۔نمازیوں کو چاہیے کہ پوری توجہ سے صفیں سیدھی کریں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "سَوُّوا صُفُوفَكُمْ , فَإِنَّ تَسْوِيَةَ الصَّفِّ مِنْ تَمَامِ الصَّلاةِ ""اپنی صفوں کو درست کرو کیونکہ صفوں کی درستی سے نماز کی تکمیل ہے۔"[3] ایک دوسری روایت میں ہے: "لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللّٰهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ""تم اپنی صفوں کو درست رکھو،ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے چہروں کے درمیان مخالفت ڈال دے گا۔"[4] صفوں کی درستی کا مطلب یہ ہے کہ کندھے سے کندھا اور ٹخنے سے ٹخنہ ملا کر صفوں کو سیدھا کیا جائے۔[5] (11)۔نمازیوں کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے درمیان فاصلوں کو حتی الامکان ختم کریں۔اس کے لیے باہم مل کر اور جڑ کر کھڑے ہوں تاکہ شیطانی سوراخ بند ہوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا" [1] ۔صحیح مسلم الصلاۃ باب تسویۃ الصفوف واقامتھا۔۔۔حدیث 432 وسنن ابی داود الصلاۃ باب من یستحب ان یلی الامام فی الصف۔۔۔حدیث 674۔ [2] ۔صحیح مسلم الصلاۃ باب تسویۃ الصفوف واقامتھا وفضل الاول فالاول منھا۔۔۔حدیث 440 وجامع الترمذی الصلاۃ باب ماجاء فی فضل الصف الاول،حدیث 224۔ [3] ۔صحیح البخاری الاذان باب اقامۃ الصف من تمام الصلاۃ حدیث723 وصحیح مسلم الصلاۃ باب تسویۃ الصفوف واقامتھا۔۔۔حدیث 433 واللفظ لہ۔ [4] ۔صحیح البخاری الاذان باب تسویۃ الصفوف عندالاقامۃ وبعدھا حدیث 717 وصحیح مسلم الصلاۃ باب تسویۃ الصفوف واقامتھا۔۔۔حدیث 436۔ [5] ۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے یوں ہی کھڑے ہوتے تھے۔صحیح البخاری الاذان باب الزاق المنکب بالمنکب والقدم بالقدم فی الصف، حدیث 725۔