کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 106
"جب كوئی مسجد میں داخل ہوتو بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں ضرور پڑھے۔"[1] (5)۔پھر آپ بیٹھ جائیں اور جماعت کھڑی ہونے کاانتظارکریں۔انتظار کے لمحات میں اللہ تعالیٰ کے ذکر اور تلاوت قرآن مجید میں مشغول رہیں۔بے مقصد شغل،مثلاً:تشبیک(ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کرنا)وغیرہ سے اجتناب کریں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي المَسْجِدِ فَلَا يُشَبِّكَنَّ؛ فَإِنَّ التَّشْبِيكَ مِنَ الشَّيْطَانِ" "جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں(نماز کے انتظار میں) ہوتو اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل نہ کرے،بے شک انگلیوں کو ایک دوسری میں داخل کرنا(تشبیک) شیطان کی طرف سے ہے۔"[2] البتہ انتظار نماز کے لمحات کے علاوہ عام حالت میں عمل ِ تشبیک میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز سے سلام پھیرنے کے بعد انگلیوں میں تشبیک کا عمل ثابت ہے۔[3] (6)۔نماز کے انتظار کی حالت میں دنیوی باتوں میں مشغول نہ ہوں کیونکہ حدیث میں ہے کہ یہ چیز نیکیوں کو اس طرح کھاجاتی ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو۔[4] ایک اور روایت میں ہے"جب تک بندہ نماز کے انتظار میں رہتا ہے تب تک وہ نماز میں ہوتا ہے۔[5]اور فرشتے اس کے حق میں استغفار کرتے ہیں۔"[6]اس لیے اسے مسلمان! اس اجروثواب کے حصول میں کوتاہی نہ کیجیے،ادھراُدھر کی باتوں اور بے مقصد مشاغل سے قیمتی اوقات ولمحات کو ضائع نہ کیجیے۔ (7)۔جب نماز کے لیے"اقامت" کہی جائے اور مؤذن "قد قامت الصلاۃ" کے کلمات کہے،تب آپ کھڑےہوں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کر تے تھے۔[7]البتہ اگرآپ ابتدائے اقامت ہی میں کھڑےہوجائیں [1] ۔صحیح البخاری التھجد باب ماجاء فی التطوع مثنیٰ مثنیٰ،حدیث 1163 وصحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب استحباب تحیۃ المسجد برکعتین۔۔۔حدیث 714۔715۔ [2] ۔سنن ابی داود الصلاۃ باب ماجاء فی فی الھدی فی المشئی الی الصلاۃ حدیث 562 وجامع الترمذی الصلاۃ باب ماجاء فی کراھیۃ التشبیک بین الاصابع فی الصلاۃ حدیث 386 ومسند احمد 3/43 واللفظ لہ۔ [3] ۔صحیح البخاری الصلاۃ باب تشبیک الاصابع فی المسجد وغیرہ حدیث 481۔ [4] ۔فاضل مؤلف نے اس حدیث کا حوالہ نہیں دیا،ہمارے علم کی حد تک ایسی کوئی حدیث نہیں۔تاہم یہ بات صحیح ہے کہ نماز کے انتظار میں بیٹھے ہوئے اللہ کاذکر کرناچاہیے نہ کہ دنیاوی باتوں میں وقت ضائع کیا جائے۔(صلاح الدین یوسف) [5] ۔صحیح البخاری الاذان باب فضل الجماعۃ حدیث 647 ومسند احمد 3/348۔ [6] ۔مسنداحمد 2/352۔ [7] ۔مؤلف کا کہناہے کہ"رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرتے تھے"محل نظر ہے کیونکہ مؤذن اقامت کہنے میں امام کے تابع ہے نہ کہ امام کھڑا ہونے میں مؤذن کی اقامت کا جیسا کہ سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جاکرنماز کی اطلاع دیا کرتے تھے۔حضرت (