کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 105
"جب کوئی شخص اچھی طرح مکمل وضو کرتا ہےاور مسجد کی طرف نکلتا ہے اوروہ نماز ہی کے لیے نکلتا ہے تو جب وہ ایک قدم چلتاہے تو اس کی وجہ سے اس کا ایک درجہ بلند کردیا جاتا ہے اور ایک گناہ مٹادیا جاتا ہے۔"[1] (3)۔جب آپ مسجد کے دروازے پر پہنچیں تو داخل ہوتے وقت پہلےدایاں پاؤں اندررکھیں اور یہ دعا پڑھیں: "أَعوذُ باللّٰهِ العَظيـم وَبِوَجْهِـهِ الكَرِيـم وَسُلْطـانِه القَديـم مِنَ الشّيْـطانِ الرَّجـيم، بِسْمِ اللّٰهِ، وَالصَّلاةُ وَالسَّلامُ عَلَى رَسُولِ اللّٰهِ، اللّٰهُـمَّ افْتَـحْ لي أَبْوابَ رَحْمَتـِك" "میں عظمت والے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور اس کے مبارک چہرے اور اس کی قدیم سلطنت کے ساتھ شیطان مردود کےشرسے پناہ طلب کرتا ہوں۔[2]اللہ کے نام کےساتھ،[3]محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر صلاۃ وسلام ہو۔[4]اے اللہ! میرے گناہ معاف کردے اور میرےلیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔"[5] جب آپ مسجد سے نکلیں تو بایاں قدم باہررکھیں اور مذکورہ دعا پڑھیں ،البتہ: "اللّٰهُـمَّ افْتَـحْ لي أَبْوابَ رَحْمَتـِك" کی جگہ پر یہ الفاظ پڑھیں:"اللّٰهُمَّ افْتَحْ لِي أَبْوَابَ فَضْلِكَ" "اے اللہ! میرے لیے اپنے فضل کے دروازے کھول دے۔"[6] اس دعا کی تبدیلی کی وجہ یہ ہے کہ مسجد کی جگہ مقام رحمت ہے اور مسجد سے باہر کی جگہ(بازار وغیرہ) رزق ڈھونڈنے کا مقام ہے ۔اور رزق حلال اللہ تعالیٰ کا ٖفضل ہے۔ (4)۔جب مسجد میں داخل ہوں تو بیٹھنے سے پہلے تحیۃ المسجد کی دو رکعتیں ادا کریں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "إذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ الْمَسْجِدَ فَلا يَجْلِسْ حَتَّى يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ" [1] ۔صحیح البخاری الاذان باب فضل صلاۃ الجماعۃ حدیث 647 وصحیح مسلم المساجد باب صلاۃ الجماعۃ من سنن الھدی حدیث 654۔ [2] ۔سنن ابی داود الصلاۃ باب ما یقول الرجل عند دخولہ المسجد؟ حدیث 466۔ [3] ۔ سنن ابن ماجہ المساجد والجماعات باب الدعاء عند دخول المسجد حدیث 771۔ [4] ۔ جامع الترمذی الصلاۃ باب ماجاء ما یقول عنددخولہ المسجد؟حدیث 314۔وسنن ابن ماجہ المساجد والجماعات باب الدعاء عند دخول المسجد حدیث771۔ [5] ۔ صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب ما یقول اذا دخل المسجد؟ حدیث 713 وسنن ابن ماجہ المساجد والجماعات باب الدعاء عند دخول المسجد حدیث 771۔ [6] ۔سنن ابن ماجہ المساجد والجماعات باب الدعاء عند دخول المسجد حدیث 771۔