کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 100
نماز کی ممانعت ہے کیونکہ وہ جگہ شیطانوں کامسکن ہے،لہذا جو جگہ ارواح خبیثہ کامسکن ہووہاں ادائیگی نماز سے اجتناب کرناہر صورت لازم ہے۔" (8)۔جس جگہ تصاویر آویزاں یا چسپاں ہوں وہاں نماز ادا کرنا مکروہ ہے،چنانچہ اس بارے میں امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"تصاویر والے مقام میں نماز ادا کرنے کی کراہت حمام میں نماز کی کراہت سے بڑھ کر ہے کیونکہ حمام میں نماز پڑھنا،یاتو اس لیے مکروہ ہے کہ وہاں نجاست کاامکان ہوتا ہے،یا اس لیے مکروہ ہے کہ وہ شیطان کاٹھکانا ہے اور یہ وجہ زیادہ صحیح ہے لیکن جہاں تصویریں ہوں وہاں شرک کاامکان ہے۔مختلف اقوام زیادہ ترتصویروں اور قبروں کی وجہ سے ہی شرک میں مبتلا ہوئیں۔"[1] اے مسلمان بھائی!اپنی نماز پر توجہ دیجئے۔نماز میں داخل ہونے سے پہلے نجاست دور کیجیے۔اور جس جگہ پر نماز پڑھنے سے روکاگیا ہے،رک جائیے تا کہ تمہاری نمازشریعت کے مطابق ہو۔احکام نماز کی تعمیل میں سستی اور کوتاہی نہ کیجیے۔تمہاری نمازتمہارے دین کا ستون ہے۔جب ستون قائم ہے تو دین قائم ہے اور جب یہ کمزور ہوگا تو تمہارا دین کمزور پڑ جائے گا۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسے کاموں کی توفیق دے جن میں خیر اور استقامت ہو۔آمین! 4۔استقبال قبلہ:شرائط نماز میں ایک شرط"کعبہ کی طرف منہ کرنا"بھی ہے۔کعبہ کو"قبلہ" اس لیے کہا جاتا ہے کہ لوگ(حالت نماز میں)ادھر رخ کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کاارشادہے: "فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ" "آپ اپنا منہ مسجد حرام کی طرف پھیرلیں اور آپ جہاں کہیں ہوں اپنا منہ اسی طرف پھیرا کریں۔"[2] (9)۔جو شخص کعبہ کے قریب ہے اور اسے دیکھ رہاہے تو وہ اپنا بدن اور چہرہ عین کعبہ کی جانب کرے کیونکہ وہ واقعتاً ایسا کرسکتاہے۔ (10)۔جو شخص کعبہ کےقریب ہو لیکن کسی رکاوٹ کی وجہ سے اسے دکھائی نہ دے تو جس حد تک ممکن ہوکعبہ کی طرف سیدھا رخ کرے اور خود کو سامنے رکھنے کی حتی المقدور کوشش کرے۔ (11)۔جو شخص کعبہ سے دور زمین کی کسی بھی جہت میں ہوتو وہ شخص اپنی نماز میں کعبہ کی جہت اور سمت کی طرف منہ کرے۔اگر اس میں دائیں بائیں ہوجانے کی وجہ سے معمولی سافرق پڑگیا تو حرج نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: [1] ۔زادالمعاد لابن القیم 3/458۔ [2] ۔البقرۃ:2/144۔