کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد3) - صفحہ 374
’’سُبْحَانَ رَبِّيَ الْاَعْلٰی‘‘ کہتے تھے۔[1] 2۔ سنن ابو داود،بیہقی،مستدرک حاکم اور مسند احمد میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: ((إِنَّ النَّبِیَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم اِذَا قَرَأَ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰیقَالَ:سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی))[2] ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب{سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی﴾پڑھتے تو کہتے ’’سُبْحَانَ رَبِّيَ الْاَعْلٰی‘‘ کہتے۔‘‘ اس حدیث کو ائمہ محدثین جیسے امام حاکم اور علامہ البانی نے صحیح و ثابت قرار دیا ہے۔[3] البتہ بعض اہل علم نے اس کے مرفوع ہونے کے بجائے اس کے موقوف ہونے کو ترجیح دی ہے،کیونکہ تین روات نے اسے ابو اسحاق سے موقوف ہی بیان کیا ہے،صرف وکیع نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے۔[4] 3۔ سنن ابو داود و بیہقی اور شرح السنہ بغوی میں موسیٰ بن ابی عائشہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ((کَانَ رَجُلٌ یُصَلِّیْ فَوْقَ بَیْتِہِ وَکَانَ اِذَا قَرَأَ:﴿اَلَیْسَ ذٰلِکَ بِقَادِرٍ عَلٰی اَنْ یُّحْیِیَ الْمَوْتٰیقَالَ:سُبْحَانَکَ فَبَلٰی،فَسَأَلُوْہُ عَنْ ذٰلِکَ،فَقَالَ:سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم))[5] ’’ایک آدمی اپنے گھر کی چھت پر نماز پڑھ رہا تھا اور جب وہ{اَلَیْسَ ذٰلِکَ بِقَادِرٍ عَلٰی اَنْ یُّحْیِیَ الْمَوْتٰی﴾پڑھتا تو یہ کہتا:’’سُبْحَانَکَ فَبَلٰی‘‘ لوگوں نے اس سے سبب پوچھا تو اس نے کہا:’’میں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔‘‘ ’’شرح السنہ‘‘ کی تحقیق میں شیخ شعیب ارناؤوط نے لکھا ہے کہ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں،البتہ انھیں شک ہے کہ موسیٰ نے یہ روایت صحابی سے سنی ہوگی یا نہیں۔[6] جبکہ صاحب ’’تمام المنّۃ‘‘
[1] صفۃ الصلاۃ(ص: 55)و قال بسند صحیح۔ [2] صحیح سنن أبي داود(1/ 168)مستدرک الحاکم و سنن البیہقي(2/ 310)مسند أحمد(1/ 232) [3] صفۃ الصلاۃ(ص: 55)و تمام المنۃ(ص: 186)و أوردہ في صحیح سنن أبي داود(1/ 168) [4] تحقیق صلاۃ الرسول(ص: 256) [5] صحیح سنن أبي داود(1/ 168)سنن البیہقي(2/ 310)شرح السُنۃ(ص: 624 بتحقیق الأرناوؤط) [6] حوالہ سابقہ۔