کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد3) - صفحہ 350
فرماتے ہیں: ((سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم قَرَأَ فِی الْمَغْرِبِ بِالطُّوْرِ))[1] ’’میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز مغرب میں سورت طور پڑھتے سنا۔‘‘ 3۔ صحیح بخاری،سنن ابو داود،ترمذی،نسائی اور دیگر کتبِ حدیث میں مروی ہے کہ مروان بن حکم کو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ نے کہا: ((مَا لَکَ تَقْرَأُ فِی الْمَغْرِبِ بِقِصَارٍ؟وَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِیَّ صلی اللّٰه علیہ وسلم یَقْرَأُ بِطُوْلٰی الطُّوْلَیَیْنِ[وزاد أبو داوٗد:قُلْتُ:مَا طُوْلٰی الطُّوْلَیَیْنِ؟قَالَ:اَلْاَعْرَافُ]))[2] ’’تمھیں کیا ہے کہ تم نماز مغرب میں صرف قصار(چھوٹی چھوٹی)سورتیں ہی پڑھتے ہو؟جبکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دو طوال(لمبی لمبی)سورتوں میں سے بھی لمبی سورت پڑھتے سنا ہے(سنن ابو داود میں ہے کہ میں نے پوچھا یہ دو طوال میں سے بھی لمبی سورت کون سی ہے؟تو کہا:سورۃ الاعراف)۔‘‘ امام ابو داود نے ابن ابی ملیکہ سے ’’طُولی الطولیین‘‘ کی تفسیر میں سورۃ الاعراف کے ساتھ ہی سورۃ المائدۃ کا ذکر بھی کیا ہے،جبکہ امام ابن خزیمہ نے ایک روایت میں سورۃ المائدہ کے بجائے سورۃ الانعام کا ذکر(روایت)کیا ہے اور طبرانی و ابو نعیم نے سورۃ الانعام کی بجائے سورت یونس روایت کی ہے۔حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’سورۃ الاعراف پر تو اتفاق ہے،لیکن جبکہ دوسری سورت کے بارے میں تین روایات ہیں اور ان میں سے سورۃ الانعام والی روایات محفوظ ہیں۔سورۃ البقرۃ سب سے لمبی سورت ہے،لیکن یہاں وہ مراد نہیں،کیونکہ یہاں دو لمبی سورتوں میں سے ایک آیا ہے،جبکہ وہ سات لمبی سورتوں میں سے ایک ہے،لہٰذا اگر وہ مراد ہوتی تو ’’طُولی الطولیین‘‘ کے بجائے ’’طولی الطوال‘‘ کہا جاتا۔‘‘[3]
[1] صحیح البخاري(2/ 247)صحیح مسلم(2/ 4/ 180)صحیح النسائي(1/ 213)سنن أبي داوٗد(3/ 27)وأشار إلیہ الترمذي(2/ 220)صحیح ابن خزیمۃ(1/ 259) [2] صحیح البخاري(2/ 246)سنن أبي داوٗد(3/ 28)سنن الترمذي(2/ 220)الفتح الرباني(3/ 226)صحیح النسائي(1/ 214)صحیح ابن خزیمۃ(1/ 259 إشارۃً)النیل(2/ 3/ 74) [3] فتح الباري(2/ 247)سنن أبي داوٗد مع العون(3/ 28،29)صحیح ابن خزیمۃ(1/ 259)