کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 99
ستاروں سے کفر کرنے والا ہے اور جس نے یہ کہا کہ فلاں ستارے کی تاثیر سے بارش ہوئی ہے،وہ مجھ سے کفر کرنے والا اور ستاروں پر ایمان لانے والا ہے۔‘‘[1] ایسے ہی سنن ابن ماجہ،دارمی اور مسند احمد میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: {تَبَرُّؤُہٗ مِنْ نَّسَبٍ وَإِنْ دَقَّ،کُفْرٌ بَعْدَ إِیْمَانٍ}[2] ’’نسب سے(بیٹا ماننے سے)انکار کرنا،چاہے وہ کس قدر دقیق ہی کیوں نہ ہو،ایمان لے آنے کے بعد کفر ہے۔‘‘ سنن ابو داود،ترمذی،ابن ماجہ،دارمی اور مسندِ احمد میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: {مَنْ أَتیٰ امْرَأَۃً فِيْ دُبُرِھَا،فَقَدْ کَفَرَ بِمَا اُنْزِلَ عَلٰی مُحَمَّدٍ صلی اللّٰه علیہ وسلم}[3] ’’جس نے اپنی بیوی سے دُبر(جائے پاخانہ)میں جماع کیا تو اس نے شریعت محمدیہ سے کفر کیا۔‘‘ سنن ابو داود،ترمذی،صحیح ابن حبان،مستدرکِ حاکم اور مسندِ احمد میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: {مَنْ حَلَفَ بِغَیْرِ اللّٰہِ فَقَدْ کَفَرَ}’’جس نے غیر اﷲ کی قسم کھائی تو اس نے کفر کیا۔‘‘ ایسی ہی دیگر احادیث سے استدلال کرتے ہوئے ان احادیث کی تاویل کی جاتی ہے کہ جیسے ان میں کفر سے مراد کفرِ اکبر نہیں،ایسے ہی نماز کے تارکین سے متعلق احادیث میں بھی کفر سے مراد کفرانِ نعمت یا کفر کے قریب ہونا مراد ہے،لہٰذا تارکِ نماز کافر نہیں بلکہ فاسق ہے۔ اس کے علاوہ وہ لوگ جو تارکِ نماز کے عدمِ کفر کے قائل ہیں،وہ کہتے ہیں کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زانی،چور،ڈاکو،شرابی اور خائن سے ایمان کی نفی کی ہے،جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم،سنن نسائی و ابن ماجہ اور مسند احمد میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: [1] صحیح سنن ابن ماجہ (2/ 118) للألباني،الصلاۃ لابن القیم و تحقیقہ (ص: 51) [2] صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث (3304) صحیح سنن ترمذي،رقم الحدیث (116) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (639) و سنن الدارمي (1/ 259) کتاب الوضوء،باب من أتی امرأتہ في دبرھا،مسند أحمد (2/ 408،476) في مسند أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ۔ [3] صححہ الحاکم والذھبي و ابن حبان،صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث (2787) صحیح سنن الترمذي،رقم الحدیث (1241) صحیح ابن حبان،الموارد،رقم الحدیث (1177) مسند أحمد (2/ 86،87) المستدرک للحاکم (1/ 18) السلسلۃ الصحیحۃ،رقم الحدیث (2042)