کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 98
سنن نسائی میں حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے،صحیح بخاری اور سنن ترمذی میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے،جس میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: {لَا تَرْجِعُوْا بَعْدِيْ کُفَّارًا یَّضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ}[1] ’’میرے بعد تم کافر نہ ہوجانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔‘‘ پانچویں حدیث صحیح مسلم میں حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،جس میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: {أَیُّمَا عَبْدٍ أَبَقَ مِنْ مَّوَالِیْہِ فَقَدْ کَفَرَ حَتّٰی یَرْجِعَ إِلَیْھِمْ}[2] ’’جو غلام اپنے آقاؤں سے بھاگ جائے تو اس نے کفر کیا،یہاں تک کہ وہ ان کے پاس نہ لوٹ آئے۔‘‘ چھٹی حدیث صحیحین اور موطأ میں مروی ہے،جس میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: {مَنْ قَالَ لِأَخِیْہِ:یَا کَافِرُ،فَقَدْ بَائَ بِھَا}[3] ’’جس نے اپنے کسی مسلمان بھائی کو کافر کہا تو وہ خود ایسا ہوگیا۔‘‘ ساتویں حدیث میں ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: {أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِيْ مُؤْمِنٌ بِيْ وَکَافِرٌ}[4] ’’میرے بندوں میں سے بعض نے مومن ہونے کی حالت میں اور بعض نے کافر ہونے کی حالت میں صبح کی۔‘‘ آگے فرمایا: ’’جس نے یہ کہا کہ اﷲ کے فضل و رحمت سے بارش ہوئی،وہ مجھ پر ایمان رکھنے والا اور [1] صحیح الجامع (3/ 6/ 143) نیل الأوطار (1/ 1/ 297) صحیح البخاري مع الفتح،رقم الحدیث (7077،7078،7079،7080) صحیح مسلم مع النووي (1/ 2/ 55،56) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث (3845،3846،3847) صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث (3920) صحیح سنن الترمذي،رقم الحدیث (1784) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (3942-3943) [2] صحیح الجامع (1/ 2/ 399) نیل الأوطار أیضاً،مختصر صحیح مسلم للمنذري،رقم الحدیث (57) [3] صحیح البخاري مع الفتح،رقم الحدیث (6104) صحیح مسلم مع النووي (1/ 2/ 49) [4] أیضاً،صحیح البخاري مع الفتح،رقم الحدیث (846) مختصر صحیح مسلم،رقم الحدیث (56) صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث (3306)