کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 96
الْفَرِیْضَۃُ مِنْ تَطَوُّعِہٖ،ثُمّ یُفْعَلُ بِسَائِرِ الْأَعْمَالِ الْمَفْرُوْضَۃِ مِثْلَ ذٰلِکَ}[1] ’’قیامت کے دن بندے کے اعمال میں سب سے پہلے جس کا حساب لیا جائے گا،وہ فرض نماز ہے۔اگر اس نے اُسے پورا کیا ہوگا تو بہتر ہے،ورنہ کہا جائے گا کہ دیکھو! کیا اس کی کوئی نفلی نمازیں ہیں؟ اگر اس کی کوئی نفلی نمازیں ہوئیں تو اس کی فرض نمازوں میں واقع کمی کو ان سے پورا کیا جائے گا اور پھر بقیہ تمام اعمال کا حساب بھی ایسے ہی کیا جائے گا۔‘‘ معمولی لفظی فرق کے ساتھ اسی مفہوم کی ایک حدیث سنن ابو داود،ابن ماجہ،مستدرکِ حاکم اور مسند احمد میں حضرت تمیم الداری رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔[2] اس قسم کی احادیث سے یوں استدلال کیا جاتا ہے کہ جب فرض نمازوں کی کمی کو نوافل سے پورا کیا جائے گا تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی پڑھی ہوئی نمازوں پر اُسے ثواب ملے گا اور وہ مقبول ہیں اور یہ بات کفر کے منافی ہے! جائزہ: یہ استدلال بھی اولاً تو اسی طرح کا ہے،جیسے سابق میں گزری ہوئی بعض احادیث سے کیا گیا تھا،جو پکے تارکِ نماز سے نہیں،بلکہ ایسے تارکِ نماز سے تعلق رکھتی ہیں،جو نماز تو پڑھتا ہو،لیکن کبھی چھوڑ بھی دیتا ہو۔دوسرا یہ کہ اگر کفر دون کفر والی بات پیشِ نظر رہے اور یہ بات ذہن میں ہو کہ کفر کی بعض اقسام مغفرت،دخولِ جنت اور عدمِ خلود فی النار کے منافی نہیں ہیں،تو پھر ان تاویلات کو کھینچ تان کر لانے کی ضرورت ہی نہیں رہ جاتی۔ تاویل: فاسق کہنے والے اہلِ علم ان احادیث کی،جن میں واضح طور پر تارکِ نماز کے لیے کفر کا لفظ آیا ہے،تاویل کرتے اور کہتے ہیں کہ ایسی احادیث میں کفر سے مراد کفرانِ نعمت ہے یا پھر علامہ مجد الدین ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے بقول((فَقَدْ کَفَرَ}سے مراد یہ نہیں کہ وہ کافر ہوگیا یا اس نے کفر کیا، [1] المنتقی مع النیل (1/ 1/ 295) وصحیح الجامع (1/ 2/ 352) صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث (770) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (1425) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث (453) [2] صحیح الجامع (1/ 2/ 353) صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث (771) سنن ابن ماجہ (1426)