کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 95
کفر کرنا کہا گیا ہے۔‘‘[1] یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہر تارکِ نماز کا دائمی جہنمی ہونا کوئی ضروری نہیں،لیکن شارع علیہ السلام نے جن گناہوں کو کفر کا نام دیا ہے،وہ کفر ہی ہوں گے،اگرچہ یہ اصل کفر سے الگ کفر ہے،جس کی کچھ وضاحت بھی ہم کریں گے۔ان شاء اﷲ ’’المنتقیٰ‘‘ میں تو ابو البر کات المجدابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اس حدیث کو تارکِ نماز کے عدمِ کفر کے دلائل کے ضمن میں نقل کیا ہے،جب کہ ان کے قابلِ صد افتخار پوتے احمد بن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنے فتاوٰی میں لکھا ہے: ’’جوشخص پکا بے نماز ہو اور ترکِ نماز پر اور اسی ترک اور اصرار پر ہی اس کی موت آجائے تو وہ مسلمان نہیں ہوگا،البتہ اکثر لوگ جو پکے بے نماز تو نہیں ہوتے،بلکہ کبھی وہ نماز پڑھنے لگتے ہیں اور کبھی چھوڑ دیتے ہیں،وہ لوگ نماز پر محافظت ونگہداشت کرنے والے نہیں ہوتے ہیں،وہ وعید کے تحت ہوتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں،جن کے بارے میں یہ سنن کی حدیثِ عبادہ رضی اللہ عنہ وارد ہوئی ہے۔‘‘[2] اس سے واضح ہوگیا کہ اس حدیث کا دائمی تارک نماز سے کوئی تعلق نہیں اور نہ اس کے عدمِ کفر پر اس بات سے استدلال کرنا درست ہوسکتا ہے،کیونکہ یہ کبھی پڑھنے اور کبھی چھوڑ بیٹھنے والے شخص کے بارے میں ہے۔ دسویں دلیل: تارکِ نماز کو کافر کے بجائے فاسق قرار دینے والوں کا استدلال ایک اس حدیث سے بھی ہے،جو سنن ابو داود،ابن ماجہ،بیہقی،مستدرکِ حاکم اور مسندِ احمد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناہے: {إِنَّ أَوَّلَ مَا یُحَاسَبُ بِہِ الْعَبْدُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَلصَّلَاۃُ الْمَکْتُوْبَۃُ،فَإِنْ أَتَمَّھَا فَبِھَا،وَإِلَّا قِیْلَ انْظُرُوْا ھَلْ لَہٗ مِنْ تَطَوُّعٍ؟ فَإِنْ کَانَ لَہٗ تَطَوُّعٌ،أُکْمِلَتِ [1] نیل الأوطار (1/ 1/ 295) [2] مجموع فتاویٰ (22/ 49)