کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 91
ہے،لہٰذا یہ احادیث مطلوبہ مسئلے میں حجت نہیں بن سکتیں۔‘‘ آگے چل کر لکھتے ہیں: ’’یہی وجہ ہے کہ سلف صالحین نے ان احادیث کی تاویل کی ہے،چنانچہ سلف کی ایک جماعت جن میں سے حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ بھی ہیں،ان کا کہنا ہے کہ ان احادیث میں مذکور حکم کا اطلاق فرائض و واجبات اور اوامر و نواہی کے نازل ہونے سے پہلے پہلے تھا۔یہی تاویل امام نووی رحمہ اللہ نے شرح مسلم میں بھی کی ہے،جبکہ اس تاویل کی تردید بھی امام نووی اور شوکانی رحمہ اللہ نے ذکر کی ہے کہ ان احادیث میں سے بعض کے راوی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں اور ان کا اسلام لانا کافی تاخیر سے ہوا تھا،وہ بالاتفاق غزوۂ خیبر کے سال 7ھ میں مسلمان ہوئے تھے،جبکہ اس وقت تک احکامِ شریعت مثلاً نماز،روزہ،زکات اور حج وغیرہ کے احکام کا نزول و استقرار ہوچکا تھا،حتیٰ کہ حج کی فرضیت بھی راجح تر قول کے مطابق 5 ھ یا 6ھ میں نازل ہوئی تھی،ویسے تو ایک قول 9ھ کا بھی ہے،مگر راجح پہلا قول ہی ہے۔‘‘[1] ’’فتح الباري‘‘ میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے مختلف تشریحی اقوال میں سے ایک یہ ذکر کیا ہے: ’’وَقِیْلَ:اَلْمُرَادُ أَنَّ مَنْ قَالَھَا مُخْلِصًا،لَا یَتْرُکُ الْفَرَائِضَ‘‘[2] ’’کلمۂ توحید کے نتیجے میں جنت میں جانے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں،جنھوں نے اخلاصِ دل کے ساتھ یہ کلمہ پڑھا اور پھر فرائض میں سے کوئی فریضہ ترک بھی نہیں کیا۔‘‘ امام نووی رحمہ اللہ نے مسلم کی شرح میں قاضی عیاض رحمہ اللہ کے افادات کو مزید اور مفید اضافوں کے ساتھ بیان کیا ہے،ان افادات میں سے یہ بھی مذکور ہے کہ جن احادیث میں کلمہ گو کے جنت جانے کا ذکر ہے،ان کا معنیٰ دراصل یہ ہے کہ جس نے کلمہ پڑھا اور کلمہ پڑھنے کے حقوق و فرائض بھی ادا کیے(تو وہ آدمی جنتی ہے)۔ان احادیث کی یہ تشریح حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے بھی بیان کی ہے،جبکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے ان احادیث کی تشریح یہ کی ہے: [1] نیل الأوطار (1/ 1/ 279) صحیح مسلم مع شرح النووي( 1/ 1/ 220) [2] فتح الباري (1/ 522)