کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 89
جس میں یہ ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: {إِنَّ اللّٰہَ قَدْ حَرَّمَ عَلَی النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ یَبْتَغِيْ بِذٰلِکَ وَجْہَ اللّٰہِ}[1] ’’اﷲ تعالیٰ نے اس شخص کو آگ پر حرام کر دیا،جس نے خالص رضاے الٰہی کے لیے ’’لا إلٰہ إلا اللّٰه ‘‘ کہا۔‘‘ آٹھویں حدیث: سنن ترمذی و ابن ماجہ،مسندِ احمد،صحیح ابن حبان،سنن بیہقی اور مستدرکِ حاکم میں ایک ایسے شخص کا واقعہ بھی مذکور ہے،جس کے نامۂ اعمال کو کھولا جائے گا تو وہ برائیوں سے بھرے ننانوے رجسٹروں پر مشتمل ہوگا اور ہر رجسٹر تا حدِ نظر طویل و عریض ہوگا،پھر ایک چھوٹا سا کارڈ نکالا جائے گا،جس میں ’’لا إلٰہ إلا اللّٰه ‘‘ کی شہادت ہوگی تو کلمۂ توحید کے اقرار پر مشتمل وہ کارڈ تمام رجسٹروں پر بھاری نکلے گا۔[2] صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ہر نبی کی ایک مقبول دعا تھی اور ہر نبی نے وہ دعا کرنے میں جلدی کی،لیکن میں نے اسے چھپائے رکھا اور وہ میں قیامت کے دن شفاعت کی صورت میں کروں گا جو،ان شاء اﷲ،میری امت کے ہر اس فرد کو پہنچے گی،جو اس حال میں فوت ہوا کہ شرک نہیں کرتا تھا۔[3] طریقۂ استدلال: ان اور ان جیسی ہی دیگر احادیث سے یوں استدلال کیا جاتا ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محض کلمۂ شہادت کو اخلاص دل سے پڑھنے پر اس کے جسم پر جہنم کی آگ حرام قرار دی ہے،اسے بالآخر جنت کی بشارت دی ہے اور جس نے اس کلمۂ شہادت کے سوا کوئی بھی عملِ خیر کبھی نہ کیا ہوگا،اسے بھی ایک نہ ایک دن بالآخر جہنم سے نکالے جانے کی خوشخبری سنائی ہے،لہٰذا یہ احادیث تارکِ نماز کی تکفیر اور اس کے دائمی جہنمی ہونے میں مانع ہیں،بلکہ اس کے برعکس جس طرح عام کبیرہ گناہوں کے مرتکب لوگوں کے لیے رحمت کی امید کی جا سکتی ہے،اسی طرح ترکِ نماز بھی چونکہ فسق اور گناہِ کبیرہ [1] الصلاۃ (ص: 36) صحیح البخاري مع الفتح (1/ 519) صحیح الجامع،رقم الحدیث (1793) صحیح مسلم مع شرح النووي (1/ 1/ 242۔245) [2] سنن الترمذي مع التحفۃ (7/ 395) [3] مختصر مسلم للمنذري تحقیق الألباني،رقم الحدیث (95)