کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 87
علی الحدیث‘‘ اور ’’کتاب الرقاق،باب صفۃ الجنۃ والنار‘‘ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: {أَسْعَدُ النَّاسِ بِشِفَاعَتِيْ،مَنْ قَالَ:لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ،خَالِصًا مِّنْ قَلْبِہٖ}[1] ’’میری شفاعت پانے والوں میں سب سے خوش نصیب وہ ہے،جس نے اخلاصِ دل سے لا الٰہ الا اللّٰه کہا،یعنی اس بات کی شہادت دی کہ اﷲ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے۔‘‘ چوتھی حدیث: چوتھی حدیث سنن نسائی و ابن ماجہ،مسندِ احمد اور مستدرکِ حاکم میں حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کو قیام کیا،جس کے دوران میں صبح ہونے تک ایک ہی آیت کو بار بار دُہراتے رہے اور پھر فرمایا: {دَعَوْتُ لِأُمَّتِيْ،وَأُجِبْتُ بِالَّذِيْ لَوِ اطَّلَعَ عَلَیْہِ کَثِیْرٌ مِّنْھُمْ تَرَکُوْا الصَّلَاۃَ} ’’میں نے اپنی امت کے لیے دعا مانگی ہے اور وہ قبول بھی ہوگئی ہے جس کا اکثر لوگوں کو علم ہوجائے تو ان میں اکثر نماز چھوڑ بیٹھیں۔‘‘ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ’’أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ؟‘‘ ’’کیا میں لوگوں کو خوش خبری نہ دے دوں؟‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہاں(دے دو)اس پر وہ چل نکلے تو حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ نے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہو کر عرض کی(اے اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم): {إِنَّکَ إِنْ تَبْعَثْ إِلَی النَّاسِ بِھٰذَا یَتَّکِلُوْا عَنِ الْعِبَادَۃِ} ’’اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ خوشخبری پہنچا دی تو لوگ عبادت گزاری سے ہاتھ کھینچ لیں گے۔‘‘ (یہ بات سن کر)نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کو واپس بلانے کے لیے آواز دی تو وہ واپس لوٹ آئے۔اس قیام اللیل میں جو آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر دُہراتے رہے،وہ سورۃ المائدہ کی [1] بحوالہ الصلاۃ لابن القیم،وتحقیقہ (ص: 34) المنتقیٰ (1/ 1/ 296) صحیح البخاري مع الفتح،رقم الحدیث (99)