کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 85
قائلینِ فسق کے دلائل تارکِ نماز کو کافر نہیں بلکہ فاسق قرار دینے والوں کا کہنا ہے کہ اس کے مسلمان ہوجانے کے بعد اس کے لیے اسلام کا حکم ثابت ہوچکا ہے،لہٰذا اسے اب ہم اسلام سے کسی یقینی خبر کے بغیر نہیں نکال سکتے،یعنی کافر قرار نہیں دے سکتے،جبکہ بعض احادیث ایسی بھی ہیں،جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص نماز کی فرضیت کا قائل ہو،مگر سستی اور بے پروائی کی وجہ سے اس کا تارک ہو تو وہ کافر نہیں ہوگا۔اس موقف پر انھوں نے مندرجہ ذیل احادیث سے استدلال کیا ہے: پہلی حدیث: صحیح بخاری و مسلم اور دیگر کتبِ حدیث میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: {مَنْ شَھِدَ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ،لَا شَرِیْکَ لَہٗ،وَأَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ،وَأَنَّ عِیْسٰی عَبْدُ اللّٰہِ وَرَسُوْلُہٗ وَکَلِمَتُہٗ،أَلْقَاھَا إِلٰی مَرْیَمَ،وَرُوْحٌ مِّنْہُ،وَالْجَنَّۃُ حَقٌّ،وَالنَّارُ حَقٌّ،أَدْخَلَہُ اللّٰہُ الْجَنَّۃَ عَلٰی مَا کَانَ مِنْہُ مِنَ الْعَمَلِ}[1] ’’جس نے اس بات کی شہادت دی کہ اﷲ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں،وہ یکتا ہے اور اس کا کوئی شریک و سہیم نہیں۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔عیسیٰ علیہ السلام اﷲ کے بندے اور اس کے رسول علیہ السلام ہیں اور اس کا کلمہ ہیں،جسے اس نے مریم علیہا السلام کی طرف القا کیا اور وہ اس کی روح ہیں۔جنت حق ہے اور جہنم بھی حق ہے،تو اﷲ اُسے جنت میں داخل کر دے گا،وہ چاہے کسی بھی عمل پر کیوں نہ ہو۔‘‘ [1] المنتقیٰ مع النیل (1/ 1/ 295) صحیح مسلم مع شرح النووي (1/ 1/ 226،227) صحیح البخاری مع الفتح،رقم الحدیث (3435) صحیح الجامع،رقم الحدیث (6320)