کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 83
تارکِ نماز کا حکم وعیدِ شدید پر مبنی ان آیات و احادیث اور بعض آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم کی بنا پر اس مسئلے کو بڑی اہمیت حاصل ہوگئی ہے،حتی کہ بعض صحابہ و تابعین رحمہم اللہ اور ائمہ و فقہاء نے یہ مسلک اختیار کیا ہے کہ بے نماز کافر و مشرک(اور دینِ اسلام سے خارج)ہے اور دوسروں نے کہا ہے کہ کافر(خارج از اسلام)تو نہیں،البتہ تارکِ نماز فاسق ہے۔ غرض کہ اس مسئلے میں علماے سلف و خلف میں اختلاف چلا آرہا ہے۔موضوع کی اہمیت کے پیشِ نظر اس کی قدرے تفصیل سے گفتگو کرنا نہ صرف مناسب بلکہ ضروری لگتا ہے۔چنانچہ جمہوریہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم تارکِ نماز کے کفر کا نظریہ رکھتے تھے۔جن میں سے علامہ ابن حزم رحمہ اللہ نے ’’محلّٰی‘‘(2/242-مسئلۃ:279)میں حضرت عمرِ فاروق،عبدالرحمن بن عوف،معاذ بن جبل اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم کے اسماے گرامی بطورِ خاص ذکر کیے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے: ’’وَلَا نَعْلَمُ لِھٰؤُلَآئِ مِنَ الصَّحَابَۃِ مُخَالِفًا‘‘[1] ’’ہمیں صحابۂ کرام میں سے ان صحابہ کا کوئی مخالف بھی معلوم نہیں ہے۔‘‘ ان الفاظ سے اس موضوع پر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے اجماع کا اشارہ ملتا ہے۔علامہ ابن حزم رحمہ اللہ کے ذکر کردہ اسماے گرامی پر امام منذری رحمہ اللہ نے ’’الترغیب والترہیب‘‘ میں حضرت عبداﷲ بن مسعود،حضرت عبداﷲ بن عباس،حضرت جابر بن عبداﷲ اور حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہم کے ناموں کا اضافہ کیا ہے کہ یہ بھی تارکِ نماز کے کفر کے قائلین ہیں،ایسے ہی تابعین و ائمۂ دین میں سے امام احمد،اسحاق،عبداﷲ بن مبارک،ابراہیم نخعی،حکم بن عتیبہ،ابو ایوب سختیانی،ابو داود طیالسی،ابن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب رحمہم اللہ بھی کفر کے قائلین میں سے ہیں۔[2] [1] مختصر الترغیب للشیخ مبارک التمیمي (1/ 128) تحقیق حسنین محمد مخلوف طبع علی نفقۃ الشیخ راشد،حاکم دبئی و الصلاۃ و تحقیقہ لابن القیم (ص: 37) [2] حوالہ سابقہ۔