کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 80
’’ہمارے اور ان(کفار و مشرکین)کے مابین جو عہد ہے،وہ نماز ہے،جس نے اسے ترک کر دیا تو اس نے کفر کیا۔‘‘ 3۔ تیسری حدیث ہبۃ اﷲ طبری لالکائی کی کتاب ’’شرح أصول اعتقاد أہل السنۃ والجماعۃ‘‘(1521)میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: {بَیْنَ الْعَبْدِ وَبَیْنَ الْکُفْرِ وَالْإِیْمَانِ اَلصَّلَاۃِ،فَإِذَا تَرَکَھَا فَقَدْ أَشْرَکَ}[1] ’’بندے اور اس کے کفر و ایمان میں(وجۂ تمیز)نماز ہے،جب کسی نے نماز چھوڑ دی تو اس نے شرک کیا۔‘‘ 4۔ چوتھی حدیث جسے امام منذری رحمہ اللہ نے ’’الترغیب‘‘ میں طبرانی اور محمد بن نصر مروزی کی ’’کتاب الصلاۃ‘‘ کی طرف منسوب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی دونوں سندوں میں کوئی خاص قابلِ مواخذہ بات نہیں ہے،اس میں حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وصیت کی اور فرمایا: {لَا تُشْرِکُوْا بِاللّٰہِ شَیْئًا،وَّلَا تَتْرُکُوْا الصَّلَاۃَ عَمَداً،فَمَنْ تَرَکَھَا عَمَداً مُتَعِمَّدًا فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْمِلَّۃِ}[2] ’’اﷲ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت بناؤ اور نہ جان بوجھ کر نماز چھوڑو،کیوںکہ جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑ دی تو وہ ملت(اسلامیہ)سے خارج ہوگیا۔‘‘ 5۔ بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ ایسے شخص سے اﷲ کا ذمہ ختم ہوجاتا ہے،یعنی وہ اﷲ کے ذمے سے نکل جاتا ہے،چنانچہ ’’مسند أحمد‘‘(5/238)اور طبرانی کبیر میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے: {مَنْ تَرَکَ صَلَاۃً مَّکْتُوْبَۃً مُّتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْہُ ذِمَّۃُ اللّٰہِ}[3] [1] الصلاۃ أیضاً،صحیح الترغیب والترہیب،رقم الحدیث(565) [2] الصلاۃ (ص: 47) [3] الصلاۃ (ص: 25،47) صحیح الترغیب،رقم الحدیث (568،569)