کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 78
3۔ ﴿فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ [التوبۃ:11] ’’پھر اگر یہ لوگ(شرک و کفر اور عہد شکنی سے)توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکات ادا کریں تو یہ تمھارے دینی بھائی ہیں۔‘‘ یہاں اﷲ تعالیٰ نے مومنوں کے ساتھ ان کی اخوت اور بھائی چارگی کو نماز کے ساتھ معلق کر دیا ہے،گویا اگر وہ نماز نہ پڑھیں گے تو وہ مومنوں کے بھائی نہیں ہوں گے اور نہ مومن ہی ہوں گے،کیونکہ مومنوں کے بھائی تو صرف مومن ہی ہو سکتے ہیں،جیسا کہ سورۃ الحجرات میں ارشادِ الٰہی ہے: ﴿اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَۃٌ﴾[الحجرات:10] ’’مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔‘‘ اس آیت اور سورۃ التوبہ والی آیت کے مجموعی مفہوم سے معلوم ہوا کہ جو شخص تارکِ نماز ہو،اس کا دین اسلام اور(اسلامی برادری سے کوئی تعلق نہیں)۔والعیاذ باللّٰه سورۃ الروم میں تو نماز نہ پڑھنے والوں کو مشرک کہا گیا ہے،چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: 4۔ ﴿مُنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ وَاتَّقُوْہُ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَلَا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ [الروم:31] ’’اسی(ایک اﷲ)کی طرف رجوع کرو اور اس سے ڈرتے رہو اور درستی سے نماز ادا کرتے رہو اور شرک کرنے والوں میں سے نہ ہو جاؤ۔‘‘ یہاں عدمِ رجوع الی اﷲ اور ترکِ تقویٰ اور ترکِ نماز کو مشرکین کا شیوہ قرار دیا گیا ہے۔