کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 77
’’ہر شخص اپنے(برے)کاموں کی پاداش میں گرفتار ہے،سواے دائیں ہاتھ والوں کے(یعنی جو دائیں ہاتھ میں نامۂ اعمال دیے جائیں گے)وہ جنت میں ہوں گے اور سوال کرتے ہوں گے گناہگاروں سے:تمھیں دوزخ میں کیا چیز لے گئی؟ وہ کہیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے اور ہم محتاج اور فقیر کو کھانا نہیں کھلاتے تھے اور بیہودہ بکنے والوں کے ساتھ ہم بھی شریک ہوجاتے تھے اور قیامت کے دن کو ہم جھوٹ سمجھتے تھے،یہاں تک کہ موت ہم پر آن پہنچی۔‘‘ ان آیات میں مجرمین کے جہنم میں جانے کے اسباب کا ذکر ہوا ہے جن میں سب سے پہلا سبب ہی یہ مذکور ہے کہ ہم نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔یہاں تو بے نماز کا انجام بتایا گیا ہے،جبکہ انتیسویں پارے کی سورۃ المرسلات میں فرمایا: ﴿کُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِیْلًا اِنَّکُمْ مُّجْرِمُوْنَ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ﴾ [المرسلات:46-47] ’’تم دنیا میں کچھ کھا پی لو اور تھوڑا سا مزہ اٹھا لو،تم مجرم و گناہ گار ہو،اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ویل و خرابی ہوگی۔‘‘ آیت(48 اور 49)میں فرمایا: 2۔ ﴿وَاِذَا قِیْلَ لَھُمُ ارْکَعُوْا لاَ یَرْکَعُوْنَ وَیْلٌ یَّوْمَئِذٍ لِّلْمُکَذِّبِیْنَ﴾ [المرسلات:48-49] ’’اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ(نماز کے لیے)جھکو تو نہیں جھکتے(یعنی نماز نہیں پڑھتے)اس دن جھٹلانے والوں کے لیے ویل و خرابی ہوگی۔‘‘ یہاں نماز کے لیے بلائے جانے کے باوجود نماز نہ پڑھنے پر انھیں ویل و خرابی کی یہ وعید سنائی گئی ہے۔علامہ ابن قیم رحمہ اللہ اپنے رسالہ ’’الصلاۃ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ یہاں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ وعید جھٹلانے پر ہے،بلکہ درحقیقت اﷲ تعالیٰ نے ان کے ترکِ نماز کا ذکر فرمایا ہے،تو یہ وعید بھی تارکِ نماز پر ہی واقع ہوئی ہے۔[1] سورۃ التوبہ میں مشرکین کی کارستانیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے: [1] الصلاۃ و حکم تارکھا (ص: 43-طبع المکتب الإسلامي)