کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 76
ترکِ نماز کا انجام قرآنِ کریم کی روشنی میں یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ یہ وعیدیں ان لوگوں کے لیے ہیں،جو نماز کے بالکلیہ تارک نہیں،بلکہ نماز کے بارے میں بے پروائی اور عدمِ پابندی کا ارتکاب کرتے اور اسے وقت سے بے وقت کر کے ادا کرتے ہیں۔ اب رہا معاملہ نماز کے بالکلیہ تارک کا تو وہ قرآن و سنت کی نصوصِ صحیحہ کی رُو سے بہت ہی خطرناک ہے اور اس کا انجام انتہائی خوفناک ہے،چونکہ نماز جیسی اہم عبادت کے سلسلے میں آج کل بہت سستی بلکہ مجرمانہ تغافل کا رویہ اپنایا جا رہا ہے بلکہ نوجوان نسل تو انتہائی غفلت کا شکار ہے۔کسی بھی قسم کی مصروفیت نہ ہونے کے باوجود اَذان سن کر بھی وہ ہوٹلوں میں بیٹھے خور و نوش اور ٹی وی اور فلم بینی وغیرہ میں مگن رہتے ہیں یا پھر گھروں،حویلیوں اور ڈیروں میں تاش،کیرم یا دوسرے کھیل کھیلنے میں وقت ضائع کر دیتے ہیں،یا ایسے ہی دوسرے سہل انگاری و تن آسانی کے مظاہرے کرتے ہیں،یا پھر اپنے کاروبار میں مشغول رہتے ہیں،لیکن نماز کے لیے مسجد جاتے ہیں نہ مصلیٰ بچھاتے ہیں۔ایسے تمام لوگوں کی خدمت میں چند قرآنی آیات اور احادیثِ نبویہ پیش کرتے ہیں،تاکہ انھیں اپنا اور اپنے جیسے دوسرے تارکینِ نماز کا انجام معلوم ہو سکے۔تو آئیے اس سلسلے میں پہلے بعض قرآنی آیات کا مطالعہ کریں،چنانچہ سورۃ المدثر میں ارشادِ الٰہی ہے: 1۔ ﴿کُلُّ نَفْسٍم بِمَا کَسَبَتْ رَھِیْنَۃٌ اِلَّآ اَصْحٰبَ الْیَمِیْنِ فِیْ جَنّٰتٍ یَتَسَآئَ لُوْنَ عَنِ الْمُجْرِمِیْنَ مَا سَلَکَکُمْ فِیْ سَقَرَ قَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ وَلَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَ وَکُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآئِضِیْنَ وَکُنَّا نُکَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِ حَتّٰی اَتٰنَا الْیَقِیْنُ [المدثر:38 تا 43]