کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 73
میں شیخ عبدالملک علی الکلیب نے اپنے رسالہ ’’الصلاۃ‘‘ کے حاشیے میں غالباً علامہ ابن قیم رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہوئے ’’غيّ‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’أَیْ شَرّاً وَّخُسْرَاناً وَقِیْلَ:ھُوَ وَادٍ فِيْ جَھَنَّمَ بَعِیْدُ الْقَعْرِ مِنْ قَیْحٍ وَّدَمٍ‘‘[1] یعنی غیّ کا معنیٰ شرّ اور نقصان ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ غیّ جہنم کی ایک وادی کا نام ہے،جو انتہائی گہری،خون اور پیپ سے بھری ہوئی ہے۔ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’الصلاۃ‘‘ میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے غیّ کا معنیٰ یہ نقل کیا ہے: ’’وَھُوَ نَھْرٌ فِيْ جَھَنَّمَ،خَبِیْثُ الطَّعْمِ،بَعِیْدُ الْقَعْرِ‘‘[2] ’’غیّ جہنم کی ایک نہر کا نام ہے،جو بڑی ہی بد مزہ اور گہری ہے۔‘‘ اسی سلسلے میں ایک حدیث وہ بھی ہے،جسے امام سیوطی رحمہ اللہ نے ’’الدر المنثور‘‘(4/278)میں تفسیر ابن جریر طبری،ابن مردویہ اور البعث للبیہقی کی طرف منسوب کیا ہے،جس میں حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جہنم کے کنارے سے اگر ایک پتھر کو اس میں گرایا جائے تو وہ ستر سال تک بھی غیّ اور آثام تک نہیں پہنچ پاتا اور جب پوچھا گیا کہ غیّ اور آثام کیا ہے تو جواب ملا: ’’بِئْرَانِ فِيْ أَسْفَلِ جَھَنَّمَ،یَسِیْلُ فِیْھِمَا صَدِیْدُ أَھْلِ جَھَنَّمَ‘‘[3] ’’دوزخ کی اتھاہ گہرائی میں یہ دو کنویں ہیں،جن میں اہلِ جہنم کی پیپ چلتی ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی تفسیر میں تفسیر ابن جریر رحمہ اللہ سے نقل کیا اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے اور اس کا مرفوعاً بیان ہونا منکر ہے۔[4] علامہ ہیثمی رحمہ اللہ نے ’’مجمع الزوائد‘‘(10/389)میں کہا ہے کہ یہ حدیث طبرانی نے روایت کی ہے،اس کے کئی رواۃ ضعیف ہیں،جنھیں ابن حبان رحمہ اللہ نے ثقہ کہا ہے،البتہ کہا ہے کہ وہ خطا کر جاتے ہیں۔امام منذری رحمہ اللہ نے ’’الترغیب‘‘(4/272)میں کہا ہے کہ اس حدیث کو طبرانی و بیہقی نے مرفوعاً بیان کیا ہے،جبکہ دوسرے محدّثین نے اسے ابو امامہ رضی اللہ عنہ پر موقوفاً [1] حوالہ بالا و الصلاۃ لابن القیم (ص: 41) [2] کتاب الصلاۃ لابن القیم (ص: 40) [3] کتاب الصلاۃ لابن قیم (ص: 41) [4] تفسیر ابن کثیر (3/ 128)