کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 72
’’نماز کو ضائع کرنے کا معنیٰ ان کا اسے بالکلیہ ترک کرنا نہیں بلکہ انھیں ان کے اوقات سے مؤخر کرنا مراد ہے۔‘‘ حضرت عمر بن عبدالعزیز،امام اوزاعی اور مسروق رحمہم اللہ نے بھی ضائع کرنے کا مطلب انھیں بے وقت کر کے پڑھنا ہی بیان کیا ہے۔[1] امام التابعین حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے نمازوں کو ضائع کرنے کا مطلب بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے: ’’ھُوَ أَنْ لَّا یُصَلِّيَ الظُّھْرَ حَتّٰی تَأْتِيَ الْعَصْرُ،وَلَا یُصَلِّيَ الْعَصْرَ إِلَی الْمَغْرِبِ،وَلَا یُصَلِّيَ الْمَغْرِبَ إِلَی الْعِشَائِ وَلَا یُصَلِّيَ الْعِشَائَ إِلَی الْفَجْرِ وَلَا یُصَلِّيَ الْفَجْرَ إِلٰی طُلُوْعِ الشَّمْسِ‘‘[2] ’’نمازوں کو ضائع کرنا یہ ہے کہ کوئی شخص نمازِ ظہر کو اس وقت تک نہ پڑھے،جب تک نمازِ عصر کا وقت نہ ہوجائے اور مغرب ہوجانے تک عصر کی نماز نہ پڑھے اور عشا ہوجانے تک مغرب ادا نہ کرے اور فجر ہونے تک عشا کی نماز ادا نہ کرے اور سورج نکلنے تک فجر کی نماز نہ پڑھے۔‘‘ ان اقوالِ صحابہ و تابعین سے معلوم ہوا کہ نماز کو ضائع کرنے سے مراد انھیں وقت سے بے وقت کر کے پڑھنا اور ان کو ادا کرنے میں عدمِ پابندی برتنا ہے۔جو شخص اسی حالت پر قائم رہے اور توبہ نہ کرے،اُسے اﷲ تعالیٰ نے غی میں ڈالنے کی وعید سنائی ہے۔ غیّ: یہ ’’غيّ‘‘ کیا ہے؟ اس کی وضاحت ’’الزواجر عن اقتراف الکبائر‘‘ میں یوں ہے: ’’ھُوَ وَادٍ فِيْ جَھَنَّمَ،بَعِیْدٌ قَعْرُہٗ وَشَدِیْدٌ عِقَابُہٗ‘‘[3] ’’یہ جہنم کی ایک وادی ہے جو بہت گہری اور سخت عذاب والی ہے۔‘‘ سعودی دار الافتاء سے شائع کردہ احکامِ نماز کے کتابچوں اور رسائل پر مشتمل مجموعے(ص:204) [1] مختصر تفسیر ابن کثیر الرفاعي (2/ 618) [2] الزواجر (1/ 133) [3] الزواجر (1/ 133)