کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد2) - صفحہ 716
اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ چونکہ اﷲ کے نام وقف زمین ہوتی ہے،لہٰذا وہ گاؤں یاآبادی رہے نہ رہے،وہ زمین وقف ہی رہے گی۔وہ وقف کرنے والے کی ملکیت میں نہیں آئے گی۔اس پر تمام ائمہ وفقہاء کا اتفا ق ہے سوائے امام محمد بن حسن شیبانی کے! وہ جگہ وقف کی صورت میں ہی پڑی رہے گی اور ساتھ والی دوسری نئی مسجد کی تعمیر وترقی میں اس جگہ کی آمدنی کو صرف کیا جائے گا اور جس طرح عام وقف اشیا کا حکم ہوتا ہے،اسی طرح یہ زمین بھی ہوگی۔[1]
اب رہی دوسری صورت کہ مسجد تو باقی ہے،لیکن آبادی نہیں رہی۔لوگ کسی وجہ سے نقل مکانی کرگئے ہیں اور وہاں نماز کوئی نہیں پڑھتا تو ظاہر ہے کہ وہ مسجد متروک ہوجائے گی اور اگر اسے اسی حالت میںرہنے دیا جائے تو وہ چور خانہ بن جائے گی یا پھر لوگ اس کا سامان نکال کرلے جائیں گے۔ان خدشات کے پیش نظر اس مسجد کو قرآن وحدیث کی تعلیم کا مدرسہ بنایا جائے یا پھر اسے توڑ کر اس کا جملہ سامان لکڑی،لوہا،قالین،دریاں اور پنکھے وغیرہ محفوظ کرلیے جائیں۔یا پھر ان اشیاء کو بیچ کر ان کی قیمت محفوظ کرلیں اور وہ کسی دوسری مسجد پر صرف کر دیں۔[2]
اگر اسی سامان کو کسی دوسری مسجد کے بنانے میں لگایا جائے تو بھی فقہاے شافعیہ میں سے متولی،ابن الصباغ اور قاضی کے بقول یہ جائز ہے اور متولی کے بقول اولیٰ یہ ہے کہ وہ اشیا کسی قریب تر جگہ کی مسجد میں لگائی جائیں،لیکن اگر کسی دور کی مسجد میں بھی صرف کردیں تو بھی جائز ہے۔البتہ یہ ہر گز جائز نہیں کہ کسی ایسی مسجد کی اشیا لکڑی لوہا وغیرہ کو سراؤں،پلوں یا کنوؤں پر لگایا جائے،بلکہ ایک مسجد کا سامان کسی مسجد ہی میں لگایا جائے گا۔ایسے ہی مسجد کے قالین،دریاں اور قندیلیں(یا بلب اور ٹیوبیں نیز پنکھے اور ائیر کنڈیشنرز)وغیرہ بھی کسی دوسری مسجد میں لگا دیے جائیں۔
کتاب الکافی میں خوارزمی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ہمارے فقہا متروک مسجد کی اشیا کو کہیں منتقل کرنا روا قرار نہیں دیتے،لیکن پھر انھوں نے خود اپنی رائے ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے نزدیک زیادہ مفید تر بات یہ ہے کہ ان اشیاء کو کسی دوسری مسجد میں منتقل کر دینا چاہیے اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا بھی یہی مسلک نقل کیا گیا ہے۔
[1] إصلاح المساجد (ص: 278)
[2] فتاویٰ ثنائیۃ (1/ 328) فتاویٰ علمائے حدیث(2/50)