کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد2) - صفحہ 714
یہ تو آٹھویں صدی ہجری کے ایک فاضل عالم کے خدشات ہیں اور اب تو یہ خدشات حقائق کا روپ بھی دھار چکے ہیں۔واقعی چوری چکاری کے ایسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔کہیں ایمپلی فائر مشین،کہیں ہارن کا یونٹ اور کہیں کچھ چوری ہوتا ہے۔لہٰذا ان حالات کے پیشِ نظر اس دوسری رائے پر عمل کرنا بھی روا ہوگا کہ نماز کے اوقات کو چھوڑ کر باقی اوقات مثلاً طلوعِ آفتاب سے لے کر دوپہر بارہ بجے تک اور پھر نمازِ عشاء سے لے کر فجر تک مساجد کو بند کر دیا جائے۔آج ان عرب ممالک میں بھی دوسری رائے پر عمل ہورہا ہے،بلکہ ہمارے ممالک میں ممانعت کی پہلی رائے رکھنے والے لوگ بھی ان اوقات میں مساجد کو بند کردیتے ہیں۔
استاذ الاساتذہ شیخ الکل میاں سید نذیر حسین محدّث دہلوی رحمہ اللہ کا فتویٰ بھی یہی ہے:
’’بلاوجہ تالا لگانا منع ہے اور چوری کے ڈر اور ذکر اﷲ میں رکاوٹ نہ آنے کی صورت میں جائز ہے۔‘‘[1]
البتہ بند کرنے اور کھولنے والے ائمہ و موذنین کو چاہیے کہ کسی نماز کی اذان سے معقول وقت پہلے اور کافی وقت بعد تک مساجد کھلی رکھنے کا اہتمام کریں۔یہاں ان عرب ممالک میں تو اوقاف وامور اسلامیہ کی طرف سے باقاعدہ حکم ہے کہ ہر نماز سے کم از کم 10۔15 منٹ پہلے مسجد کھولیں اور کم از کم آدھا گھنٹا،20 منٹ تک نماز کے بعد بھی کھلی رہنے دیں اور پھر بند کریں،جیسا کہ بعض ائمہ وموذنین اور اوقاف سے متعلق لوگوں سے رابطہ کرنے پر ہمیں معلوم ہوا ہے۔
اب اگر کوئی صاحب اپنی ذاتی مصروفیات کی وجہ سے نمازیوں کو اتنا وقت نہیں دیتے تو یہ ان کی غلطی ہے اور اس کے وبال کے وہ خود ذمے دار ہیں۔اس رائے پر عمل کی صورت میں جن مساجد میں خادم یا دربان رکھے گئے ہوں،جیسا کہ ہمارے ملک میں عموماً ہوتا ہے تو ان لوگوں کو علامہ تاج الدین سبکی رحمہ اللہ کی بات پر عمل کرنا چاہیے۔چنانچہ وہ ’’معید النعم‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’دربان یا خادم کو مسجد کے دروازے کے قریب ہی کہیں رات بسر کرنی چاہیے،تاکہ اگر کوئی نمازی تہجد وغیرہ کے لیے رات کے وقت مسجد میں آنا چاہے تو آسکے۔بعض لوگ عشاء کے بعد یا کسی دوسرے وقت جب ایک مرتبہ دروازہ بند کردیں تو پھر کسی کے آنے پر نہیں کھولتے،ان کے لیے یہ
[1] فتاویٰ نذیریہ (1/256) بحوالہ فتاویٰ علمائے حدیث(2/95)