کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد2) - صفحہ 712
’’انھوں نے(اندر جا کر اندر سے)دروازہ بند کر لیا،جب انھوں نے دروازہ کھولا تو سب سے پہلے میں اندر گیا۔‘‘
اس حدیث میں آگے بھی کچھ الفاظ ہیں،لیکن ہمارا مقصود انہی الفاظ میں موجود ہے کہ خانہ کعبہ کا دروازہ تھا،جسے اندر سے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرافقین صحابہ رضی اللہ عنہم نے بند کر لیا تھا۔اس حدیث پر امام بخاری نے کتاب الصلاۃ میں یوں تبویب کی ہے:
’’باب الأبواب والغلق للکعبۃ والمساجد‘‘
یعنی خانہ کعبہ اور عام مساجد کے لیے دروازوں اور انھیں بند کرنے والے کواڑوں کنڈیوں کا بیان۔
پھر کتاب الحج میں جا کر اس حدیث پر یوں تبویب کی ہے:
’’باب إغلاق البیت‘‘ یعنی بیت اﷲ کے دروازوں کو بند کر لینے کا بیان۔
اس طرح بیت اﷲ شریف اور عام مساجد کے لیے دروازوں وغیرہ کا ثبوت تو مل جاتا ہے اور کعبۃ اﷲ کے اندر داخل ہو کر اس کے دروازے کو اندر سے بند کر لینے کا پتا بھی چل جاتا ہے۔بات صرف یہ رہ جاتی ہے کہ آیا اوقاتِ نماز کو چھوڑ کر دوسرے اوقات میں مساجد کو تالے وغیرہ لگا کر بند کرنا روا ہے یا نہیں؟ اس سلسلے میں کوئی واضح و صریح دلیل تو ہماری نظر سے نہیں گزری،جس سے جواز ثابت ہو،بلکہ اس کے برعکس فقہاے احناف میں سے بعض نے اسے مکروہ قرار دیا ہے،بلکہ صیمری نے شرح الکفایہ میں کہا ہے کہ خود امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کسی بھی وقت مسجد کے دروازے بند کرنے کو ممنوع قرار دیتے تھے۔امام نووی نے روضۃ الطالبین میں الکفایہ سے ان کا یہ قول نقل کیا ہے اور اسے برقرار رکھا،بلکہ اس کی تائید کی ہے۔[1]
مساجد کو بند کرنے کے ناجائز ہونے پر احناف کا استدلال اس ارشادِ الٰہی سے ہے:
﴿وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰہِ اَنْ یُّذْکَرَ فِیْھَا اسْمُہٗ وَ سَعٰی فِیْ خَرَابِھَا﴾[البقرۃ:114]
’’اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اﷲ کی مسجدوں میں اس کے نام کی یاد سے روکے اور ان کی ویرانی کے دَرپے ہو۔‘‘
[1] دیکھیں: إعلام الساجد للزرکشي (ص: 340)