کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد2) - صفحہ 710
ساتھ ہی یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ اس حدیث میں نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑوں کی دوڑ کرانے سے کسی کے ذہن میں ریس کورس کا نقشہ ہرگز نہیں آنا چاہیے،کیونکہ موجود دور کی یہ ریس ان پاک و مقدس مقاصدِ جہاد سے قطعاً عاری ہوتی ہے،پھر سٹہ و قمار یا جُوا وغیرہ جیسی بیماریاں اس پر مستزاد ہیں،جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ اس حدیث میں محلِ شاہد یا مقامِ استشہاد صرف وہ الفاظ ہیں،جن میں ایک نام مسجد بنی زریق آیا ہے۔گویا عہدِ نبوت میں بھی پہچان کے لیے بعض مساجد کی اضافت بعض قبائل وغیرہ کی طرف ہوچکی تھیں۔امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث پر یوں تبویب کی ہے: ’’باب ھل یقال مسجد بني فلان؟‘‘ ’’اس بات کا بیان کہ کیا کسی مسجد کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ قبیلہ فلاں کی مسجد؟‘‘ اس باب کو استفہام و استفسار یا سوال کے انداز میں ذکر فرمایا ہے،حکم نہیں لگایا،جس کی وجہ دراصل یہ ہے کہ الفاظِ حدیث میں اس بات کا احتمال موجود ہے کہ اس مسجد کا یہ نام ’’مسجد بنی زریق‘‘ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں ہی رکھا گیا ہو اور یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں بھی آگئی ہو۔اس بات کا امکان بھی ہے کہ اس مسجد کا یہ نام نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد رکھا گیا ہو اور راویِ حدیث نے اس کا موجودہ نام ذکر کر دیا ہو،اس احتمال کی وجہ سے امام بخاری رحمہ اللہ نے استفہامیہ انداز میں تبویب کی ہے اور اپنا رجحان بھی واضح کر دیا ہے،جبکہ صاحبِ فتح الباری نے لکھا ہے کہ ان دونوں طرح کے احتمالات میں سے زیادہ ظاہر پہلا ہی ہے کہ اس مسجد کا یہ نام نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک ہی میں رکھا گیا ہو اور جمہور علماے امت ایسی اضافت و نسبت کو جائز قرار دیتے ہیں۔[1] البتہ بہتر ہو کہ مسجد کو اگر کسی کی طرف منسوب کرنا ہو تو یہ اضافت محض امتیاز کے لیے ہو،اس میں تعصّب اور انتشار و افتراق کا داعیہ کار فرما ہو نہ اس اضافت کو اپنے یا اپنے باپ دادا کے لیے بڑائی اور فخر و ریا کا ذریعہ نہ بنایا جائے،بلکہ جب مسجد خالص رضائے الٰہی کے لیے تعمیر کریں یا کروائیں تو اس کی اضافت میں بھی احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیں اور کسی ایسی شخصیت کی طرف اضافت و نسبت کریں،جس میں ایسی کوئی بات نہ ہو،مثلاً مسجد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ،مسجد عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ،
[1] فتح الباری (1/ 515،516) إعلام الساجد (ص: 384-385) فتاویٰ ثنائیہ (1/ 266) فتاویٰ علمائے حدیث (2/ 69)