کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 71
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’وہ لوگ جو اپنی نمازوں سے بے خبر ہیں(ان کے لیے ویل ہے)کون ہے جو سہو کا شکار نہیں ہوتا اور وہ کون ہے جو دورانِ نماز خیالات میں مبتلا نہیں ہوتا؟‘‘ تو انھوں نے فرمایا: ’’لَیْسَ ذَاکَ،إِنَّمَا ھُوَ إِضَاعَۃُ الْوَقْتِ‘‘[1] ’’ایسا تو نہیں،بلکہ اس سے مراد نمازوں کے اوقات کو ضائع کرنا ہے۔‘‘ ان دونوں حدیثوں اور تفصیل سے معلوم ہوا کہ نماز کو اس کے وقت سے بے وقت کر کے ادا کرنا کبیرہ گناہ ہے اور ایسا کرنے والوں کو جہنم کی اس وادی میں گرایا جائے گا،جس کے عذاب کی شدت کا یہ عالم ہوگا کہ پہاڑوں کے پتھر بھی پگھل جائیں گے۔أَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْہُ۔آمِیْن نماز کے لیے پابندیِ وقت کی پروا نہ کرنے والوں کو سخت عذاب ہوگا،جیسا کہ سورت مریم میں اﷲ تعالیٰ نے پہلے انبیاے کرامo اور دوسرے سعادت مند لوگوں کا ذکر کیا اور پھر ارشاد فرمایا ہے: ﴿فَخَلَفَ مِنْم بَعْدِھِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلوٰۃَ وَ اتَّبَعُوا الشَّھَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ وَلَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًا﴾[مریم:59] ’’پھر ایسے ناخلف لوگ ان کے جانشین بنے،جنھوں نے نماز کو ضائع کیا اور نفسانی خواہشات کی پیروی کی،پس قریب ہے کہ وہ غی یا گمراہی کے انجام سے دو چار ہوں گے،سوائے ان لوگوں کے جو تائب ہوگئے اور ایمان لائے اور اچھے عمل کیے،وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہوگی۔‘‘ یہاں نماز کو ضائع کرنے سے کلی طور پر نماز ترک کرنے کی رائے کو صرف امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ نے اختیار کیا ہے،جبکہ صحابہ میں سے حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’لَیْسَ مَعْنٰی أَضَاعُوْھَا:تَرَکُوْھَا بِالْکُلِیَّۃِ،وَلٰکِنْ أَخَّرُوْھَا عَنْ أَوْقَاتِھَا‘‘[2] [1] الصلاۃ لابن قیم (ص: 39) المکتب الإسلامي مجموعۃ رسائل الصلاۃ (ص: 205) الزواجر و الترغیب أیضاً [2] الزواجر (1/ 133)