کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد2) - صفحہ 709
تو امتیاز و فرق اور تعارف و پہچان کے طور پر ہوتی ہے،تاکہ ذکر و تذکرے کے وقت ایسی اضافت و نسبت کی وجہ سے مسجدِ مقصود کو پہچاننے میں آسانی رہے اور ایسی اضافت جو ملکیت کے لیے نہیں،بلکہ محض فرق و تمییز کے لیے ہو،یہ ممنوع نہیں ہوتی،کیونکہ آیت میں اضافتِ ملکیت ہے،جیسا کہ علامہ زرکشی رحمہ اللہ نے ’’إعلام الساجد‘‘(ص:384-385)میں اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری(1/505)میں لکھا ہے اور اس بات کی دلیل کتبِ حدیث سے بھی ملتی ہے،چنانچہ صحیح بخاری و مسلم،سنن نسائی،دارمی اور موطا امام مالک میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں:
{إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم سَابَقَ بَیْنَ الْخَیْلِ الَّتِيْ أَضْمِرَتْ مِنَ الْحَیْفَائِ،وَأَمَدَّھَا ثَنِیَّۃَ الْوَدَاعِ،وَسَابَقَ بَیْنَ الْخَیْلِ الَّتِيْ لَمْ تُضْمَرْ مِنَ الثَّنِیَّۃِ إِلٰی مَسْجِدِ بَنِيْ زُرَیْقٍ}[1]
’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تضمیر و تربیت یافتہ گھوڑوں کی دوڑ کروائی،جن کے لیے حیفاء نامی جگہ سے لے کر ثنیۃ الوداع نامی مقام تک مسافت طے پائی اور غیر تضمیر و غیر تربیت یافتہ گھوڑوں کی دوڑ کروائی،جن کے لیے طے شدہ مسافت ثنیۃ الوداع نامی جگہ سے لے کر مسجد بنی زریق تک تھی۔‘‘
اس حدیث میں گھوڑ دوڑ کا ذکر ہے،جو خالص جہادِ اسلامی کے لیے تیار کیے گئے گھوڑوں کو جانچنے پرکھنے اور مزید تربیت دینے کی گنجایش وغیرہ معلوم کرنے کے لیے تھی۔تضمیر سے مراد یہ ہے کہ گھوڑوں کو بھوک و پیاس کا عادی بنا کر اور کم چارہ بھوسا دے کر ہلکے بدن اور چھوٹے پیٹ والا بنایا جاتا ہے،تاکہ تیز سے تیز دوڑ سکے۔یہ اندازِ تربیت جائز ہے اور اگر کسی جانور کو بلاوجہ بھوکا پیاسا رکھا جائے اور اس سے کام برابر لیا جائے تو وہ منع ہے،جس پر دلالت کرنے والی احادیث قربانی پر کیے گئے بعض اندیشوں کے اعتراضاتِ بے رحمی وغیرہ کی تردید کے ضمن میں ہم ذکر کر چکے ہیں،جن کی تفصیل اور نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانوروں کے ساتھ بھی رحمۃ للعالمینی کی متعدد مثالیں مسائل و احکام قربانی کے ضمن میں موجود ہیں۔[2]
[1] صحیح البخاري مع الفتح (1/ 515) مختصر صحیح مسلم للمنذري (1108) صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث (2245) صحیح سنن الترمذي،رقم الحدیث (1389) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث (3351) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (2877) موطا الإمام مالک (2/ 467،468)
[2] دیکھیں ہماری کتاب: ’’عیدین و قربانی‘‘ طبع پاک و ہند۔