کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد2) - صفحہ 707
امام طحاوی کے اس موقف کی کثیر ائمہ و فقہا اور محدّثین نے سخت تردید کی ہے،انہی میں سے ایک امام بیہقی بھی ہیں،چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’اگر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کسی ایسی حدیث کا علم ہوتا،جس سے جواز منسوخ سمجھا جاتا تو وہ اس حدیث کو اس دن پیش فرماتے،جس دن عام انصار و مہاجرین صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نمازِ جنازہ مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں پڑھی تھی،یا پھر اس دن وہ حدیث پیش فرماتے،جس دن حضرت عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ کی نمازِ جنازہ بھی مسجد ہی میں پڑھی گئی تھی،یا پھر جن لوگوں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس عمل پر نکیر کی تھی،انھوں ہی نے ناسخ حدیث پیش کی ہوتی اور تب نہیں تو جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے اس عمل کے جواز میں حضرت بیضاء رضی اللہ عنہا کے دو بیٹوں حضرت سہل اور ان کے بھائی(رضی اللہ عنہما)کی نمازِ جنازہ کے سلسلے میں بتایا کہ خود نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نمازِ جنازہ مسجد میں پڑھی تھی تو کم از کم اسی وقت کوئی نسخ کا پتا دینے والی حدیث بیان کرتا،لیکن ایسا نہیں ہوا،بلکہ جن لوگوں کو جواز کا علم نہیں تھا،انھوں نے اعتراض کیا اور جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواز پر دلالت کرنے والے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عملِ مبارک کا حوالہ دیا تو وہ لوگ خاموش ہوگئے اور پھر کوئی اعتراض نہ کیا گیا ہو۔‘‘[1]
اس سے معلوم ہوا کہ امام طحاوی رحمہ اللہ کا دعواے نسخ غیر صحیح ہے۔فتاویٰ عالمگیری میں مسجد میں نمازِ جنازہ کے سلسلے میں لکھا ہے:
’’بارش وغیرہ کا عذر ہو تو مطلق مکروہ نہیں اور بلا عذر ہو تو یہ مکروہ ہے،جبکہ حاشیہ میں ابن الہمام کے حوالے سے لکھا ہے کہ انھوں نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ یہ کراہت تنزیہی ہے،تحریمی نہیں،لہٰذا شافعیہ وغیرہ کے کچھ خلاف نہیں ہے۔‘‘[2]
غرض کہ مسجد میں کراہت یا ممانعت اور اس کے صحیح نہ ہونے والا قول ضعیف ہے اور صحیح تر بات یہ ہے کہ باہر جنازہ گاہ میں اور مسجد میں دونوں جگہ ہی جائز ہے،البتہ افضل مسجد سے باہر ہی ہے۔[3]
[1] زاد المعاد (1/ 501) إعلام الساجد (ص: 352-353)
[2] فتاویٰ عالمگیری اُردو ترجمہ مولانا سید امیر علی (1/ 262) طبع ادارہ نشریات اسلام لاہور
[3] تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: معالم السنن (1/ 1/ 271-دار الکتب العلمیۃ) زاد المعاد (1/ 501-502) إعلام الساجد (ص: 351-353) فتح الباري (3/ 196،دار الإفتاء) بدایۃ المجتھد (1/ 242-243-المعارف ریاض) عون المعبود (8/ 477،480) طبع مدنی،الفتح الربانی و شرحہ (7/ 247،250-دارالشھاب قاہرہ) الموسوعۃ الفقہیۃ (16/ 35،36،طبع أوقاف الکویت)