کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد2) - صفحہ 705
’’جو کسی کے گھر سے اس کے جنازے میں شریک ہوا(اور ایک روایت میں ہے کہ جس نے اﷲ پر ایمان رکھتے ہوئے رضاے الٰہی کی خاطر کسی جنازے میں شرکت کی)یہاں تک کہ اس کی نمازِ جنازہ پڑھی،اُسے ایک قیراط کے برابر اجر ملے گا اور جو میت کی تدفین تک ساتھ رہا(اور دوسری روایت میں ہے کہ تدفین سے فارغ ہونے تک ساتھ رہا)اسے دو قیراط کے برابر اجر ملے گا۔‘‘
یہ حدیث صحیحین و سنن اربعہ،سنن کبریٰ بیہقی،مسند احمد و طیالسی اور منتقی ابن الجارود میں مروی ہے اور اس کے آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ قیراطان کیا ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
{مِثْلُ الْجَبَلَیْنِ الْعَظِیْمَیْنِ[وَفِي الرِّوَایَۃِ الْأُخْریٰ:کُلُّ قِیْرَاطٍ مِثْلَ أُحُدٍ]}
’’دو بڑے بڑے پہاڑوں کے برابر اور دوسری روایت میں ہے کہ ہر قیراط جبلِ اُحد کے برابر ہوتا ہے۔‘‘
ایسے ہی حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے بھی اسی مفہوم کا ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سنن نسائی اور مسند احمد میں مروی ہے۔[1] اور نسائی و مسند احمد میں اسی مفہوم و معنیٰ کا ایک ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبداﷲ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔[2] مسند احمد و بزار اور مسند ابی یعلی میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے بھی ایسی ہی ایک حدیث مروی ہے۔[3]
ان احادیث کے متن و ترجمے سے ہم صرفِ نظر کر رہے ہیں،تاکہ اختصار بھی ہوجائے اور ویسے بھی ان میں وہی بات آئی ہے،جو صحیح بخاری و مسلم،سنن اربعہ اور دیگر کتب والی اس دوسری حدیثِ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور صحیح مسلم و دیگر کتب والی پہلی حدیثِ ثوبان رضی اللہ عنہ میں آگئی ہے،ان سب کا مجموعی و مرکزی معنیٰ ایک ہی ہے کہ اگر صرف نمازِ جنازہ پڑھی تو ثواب ایک قیراط کے برابر ہوجائے گا،اور ایک قیراط اُحد پہاڑ کے برابر ہوتا ہے۔اسی مفہوم کی بعض دیگر احادیث کی تخریج حافظ ابن حجر رحمہ اللہ
[1] صحیح سنن النسائي (2/ 418) رقم الحدیث (1833) صحیح الجامع،رقم الحدیث (6134) أحکام الجنائز (ص: 68)
[2] حوالہ جات بالا،و الفتح الرباني (7/ 196)
[3] أحکام الجنائز للألباني (ص: 680) الفتح الرباني (7/ 197)