کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد2) - صفحہ 704
چوتھا جواب: بقول امام خطابی رحمہ اللہ اگر یہ حدیث ثابت بھی ہو تو اس میں اس بات کا احتمال موجود ہے کہ اس کا معنیٰ یہ ہو کہ جو شخص مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھے گا،اسے ثواب کم ہوگا،کیونکہ جو مسجد میں نمازِ جنازہ پڑھے گا،وہ عموماً وہیں سے اپنے گھر لوٹ جائے گا اور تدفین میں شرکت نہیں کر پائے گا تو وہ اس اجر سے محروم ہو جائے گا،جو نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تدفین تک رہنے والوں کے لیے بتایا ہے۔ تدفین تک موجود رہنے کا اجر و ثواب: صحیح مسلم،سنن ابن ماجہ،مسند احمد اور طیالسی میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: {مَنْ صَلّٰی عَلٰی جَنَازَۃٍ فَلَہٗ قِیْرَاطٌ فَإِنْ شَھِدَ دَفْنَھَا فَلَہٗ قِیْرَاطَانِ،اَلْقِیْرَاطُ مِثْلَ أُحُدٍ}[1] ’’جس نے کسی کی نمازِ جنازہ پڑھی،اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملتا ہے اور جو کسی کی تدفین میں بھی شریک ہوا،اسے دو قیراط کے برابر اجر ملتا ہے اور ایک قیراط جبلِ اُحد کے برابر ہوتا ہے۔‘‘ اسی موضوع کی کئی احادیث اور بھی ہیں،جن میں سے کئی طرق سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {مَنْ شَھِدَ الْجَنَازَۃَ[مِنْ بَیْتِھَا](وَفِيْ رَوَایَۃٍ:مَنِ اتَّبَعَ جَنَازَۃَ مُسْلِمٍ إِیْمَانًا وَاحْتِسَابًا)حَتّٰی یُصَلّٰی عَلَیْھَا فَلَہٗ قِیْرَاطٌ،وَمَنْ شَھِدَھَا حَتّٰی یُدْفَنَ(وَفِيْ الرِّوَایَۃِ الْأُخْرٰی:یُفْرَغَ مِنْھَا)فَلَہٗ قِیْرَاطَانِ[مِنَ الْأَجْرِ]}[2]
[1] صحیح مسلم مع شرح النووي (4/ 7/ 17) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (1540) الفتح الرباني (7/ 196) أحکام الجنائز (ص: 168،طبع المکتب الإسلامي) صحیح الجامع (3/ 5/ 315) رقم الحدیث (6352) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (47،1323-1325) صحیح مسلم مع شرح النووي (4/ 7/ 13 تا 16) صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث (12-2713) صحیح سنن الترمذي،رقم الحدیث (831) صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث (84 تا 1887) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (1539) صحیح الجامع،رقم الحدیث (6134 تا 6138) الفتح الرباني (7/ 192-193) أحکام الجنائز (ص: 67،68)