کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد2) - صفحہ 700
’’نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نجاشی کے فوت ہونے کی اسی دن خبر دی،جس دن وہ فوت ہوئے،پھر جنازہ گاہ کی طرف گئے اور صفیں بنائیں اور چار تکبیریں کہیں(یعنی نمازِ جنازہ پڑھی)۔‘‘ ان صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی مرویات میں بھی جنازہ گاہ ہی میں نمازِ جنازہ پڑھنے کا ذکر آیا ہے،اگرچہ غائبانہ نمازِ جنازہ تھی۔امام بخاری رحمہ اللہ نے نجاشی اور یہودیوں کو سنگسار کرنے والی احادیث پر یوں تبویب کی ہے: ’’باب الصلاۃ علیٰ الجنائز بالمصلَّیٰ والمسجد‘‘[1] ’’جنازہ گاہ اور مسجد میں میت پر نمازِ جنازہ پڑھنے کا بیان۔‘‘ مصلّٰی یا جنازہ گاہ کا ذکر تو صریح ہے،جبکہ تبویب میں مسجد کا ذکر لا کر صحیح مسلم اور دیگر کتب والی اس حدیث کی طرف اشارہ فرما گئے ہیں،جن میں مسجد میں نمازِ جنازہ کا ذکر وارد ہوا ہے۔ ایسے ہی مسند احمد و طیالسی،سنن بیہقی اور مستدرک حاکم میں جابر بن عبداﷲ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی فوت ہوگیا،تو ہم نے اسے غسل و کفن دیا،حنوط کیا(یعنی مشکِ کافور لگائی): ’’وَوَضَعْنَاہٗ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم حَیْثُ تُوْضَعُ الْجَنَائِزُ عِنْدَ مَقَامِ جِبْرِیْلَ ثُمَّ آذَنَّا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم بِالصَّلَاۃِ عَلَیْہِ فَجَائَ مَعَنَا‘‘ ’’ہم نے اس کا جنازہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مقامِ جبریل کے قریب اس جگہ رکھا،جہاں جنازے رکھے جاتے ہیں،پھر ہم نے اس کی نمازِ جنازہ کے لیے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ساتھ آئے۔‘‘ آگے اس میت کے دو دینار کے مقروض نکلنے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جنازہ پڑھانے سے انکار کرنے اور دوسروں کو پڑھنے کا کہنے اور حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے وہ قرض اپنے سر لینے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس کا جنازہ پڑھانے کا ذکر ہے۔ مسند احمد و مستدرک حاکم میں حضرت محمد بن عبداﷲ بن جحش رضی اللہ عنہ سے حسن حدیث مروی ہے،جس میں وہ بیان فرماتے ہیں:
[1] صحیح سنن النسائي،رقم الحدیث (1853) أحکام الجنائز (ص: 16،106،107)