کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 68
نماز میں عدمِ پابندی کا انجام پچھلی سطور میں ہم نے پابندیِ وقت کا موضوع شروع کیا تھا،جسے پہلے قرآنِ کریم کے حوالے سے بیان کیا تھا،جس کے ضمن میں نمازِ وسطیٰ کی تعیین و تفصیل آگئی تھی،پھر احادیث کی روشنی میں پابندیِ وقت کا ذکر آیا تو اسی ضمن میں فضائلِ نماز بھی قرآن اور سنت کی رُو سے آگئے تھے۔اب آئیے دیکھیں کہ نماز میں عدمِ پابندی کی سزا اور عتاب کیا ہے؟ لیکن یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ عدمِ پابندی سے مراد یہ نہیں کہ وہ پڑھتا ہی نہیں،کیونکہ ایسا شخص تو تارکِ نماز ہے،جس کا ذکر بعد میں آئے گا اور اس کی سزا و عتاب بھی آگے ذکر کریں گے۔ان شاء اﷲ عدمِ پابندی سے مراد عدمِ محافظت ہے کہ نمازوں کے اوقات کی پابندی نہ کرنا،بلکہ انھیں بے وقت حسبِ منشا ادا کرنا اور بے پروائی کا مظاہرہ کرنا۔ چونکہ اسلام کے ارکانِ خمسہ سے اقرارِ توحید و رسالت کے بعد بے شمار فضائل و برکات والا عمل اور اہم رکنِ دین نمازِ پنج گانہ ہے،لہٰذا نیند یا بھول وغیرہ کسی شرعی عذر کے بغیر اُسے وقت سے بے وقت کر کے پڑھنا کبیرہ گناہ ہے،جیسا کہ سورۃ المنافقون میں ارشادِ الٰہی ہے: ﴿ٰٓیاََیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تُلْھِکُمْ اَمْوَالُکُمْ وَلَآ اَوْلاَدُکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ [المنافقون:9] ’’اے ایمان والو! تمھیں تمھارے مال و اولاد ذکرِ الٰہی سے غافل نہ کر دیں اور جو کوئی غفلت کرے گا تو ایسے لوگ ہی(قیامت کے دن)نقصان اُٹھانے والے ہیں۔‘‘ یہاں ذکرِ الٰہی سے مراد عام ذکر نہیں،بلکہ نمازِ پنج گانہ مراد ہے،چنانچہ جلالین میں اس آیت کی تفسیر میں ذکر الٰہی سے مراد پانچ نمازیں لکھا ہے۔[1] اسے رئیس المفسرین امام ابن جریر رحمہ اللہ نے بھی اس آیت کے تحت لکھا ہے کہ کہا گیا ہے: [1] تفسیر الجلالین (ص: 744) دار المعرفۃ بیروت