کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 66
حدیث نمبر26: نماز ہی کے ذریعے سے قربِ الٰہی بھی نصیب ہوتا ہے،حتی کہ صحیح بخاری،سنن کبریٰ بیہقی اور حلیۃ الاولیا ابو نعیم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث قدسی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰی یَقُوْلُ:مَنْ عَادَیٰ لِيْ وَلِیًّا فَقَدْ آذَنْتُہٗ بِالْحَرْبِ،وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِيْ بِشَیْیٍٔ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُہٗ عَلَیْہِ،وَمَا یَزَالُ عَبْدِيْ یَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتّٰی أُحِبَّہُ،فَإِذَا أَحْبَبْتُہٗ کُنْتُ سَمْعَہُ الَّذِيْ یَسْمَعُ بِہٖ،وَبَصَرَہُ الَّذِيْ یُبْصِرُ بِہٖ،وَیَدَہُ الَّذِيْ یَبْطُشُ بِھَا،وَرِجْلَہُ الَّذِيْ یَمْشِيْ بِھَا،وَإِنْ سَأَلَنِيْ لَأُعْطِیَنَّہٗ،وَإِنِ اسْتَعَاذَنِيْ لَأُعِیْذَنَّہٗ وَمَا تَرَدَّدْتُّ عَنْ شَیْیٍٔ أَنَا فَاعِلُہٗ تَرَدُّدِيْ عَنْ قَبْضِ نَفْسِ الْمُؤْمِنِ یَکْرَہُ الْمَوْتَ،وَأَنَ أَکْرَہُ مَسَائَ تَہٗ}[1] ’’میرے اﷲ کا ارشاد ہے:جس نے میرے کسی نیک بندے(ولی)کے ساتھ عداوت رکھی،میں اس کے ساتھ اعلانِ جنگ کرتا ہوں۔میرا بندہ میرا قرب حاصل کرنے کے لیے جو اعمال بجا لاتا ہے،اس میں میرے نزدیک اس سے محبوب عمل کوئی نہیں،جو میں نے اس پر فرض کر دیا ہے۔میرا بندہ نوافل کے ذریعے سے میرا قرب حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگا رہتا ہے،یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس کو اپنا محبوب بنا لیتا ہوں تو میں اس کی سماعت بن جاتا ہوں،جس سے وہ سنتا ہے،اس کی بصارت بن جاتا ہوں،جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں،جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں،جس سے وہ چلتا ہے۔اگر وہ مجھ سے کسی چیز کا سوال کرے تو میں اُسے وہ چیز ضرور دیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ مانگے تو میں اُسے ضرور پناہ دیتا ہوں۔میں کبھی کسی کام میں جسے کرنا چاہوں،اتنا متردّد نہیں ہوا،جتنا کہ [1] بحوالہ تحقیق صلاۃ الرسول (ص: 272) بحوالہ صحیح الجامع (1/ 2/ 117،118) صحیح البخاري مع الفتح،رقم الحدیث (6502) السلسلۃ الصحیحۃ،رقم الحدیث(1640)