کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 64
جیسا کہ صحیح مسلم،سنن ترمذی اور مسندِ احمد میں حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: {اَلطُّھُوْرُ شَطْرُ الْإِیْمَانِ،وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلَأُ الْمِیْزَانَ وَسُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ تَمْلَآنِ أَوْ تَمْلَأُ مَا بَیْنَ السَّمَائِ وَالْأُرْضِ،وَالصَّلَاۃُ نُوْرٌ،وَالصَّدَقَۃُ بُرْھَانٌ،وَالصَّبْرُ ضِیَائٌ،وَالْقُرْآنُ حُجَّۃٌ لَکَ أَوْ عَلَیْکَ}[1] ’’طہارت و نظافت نصف ایمان(یا ایمان کا ایک حصہ)ہے۔الحمدﷲ کی تسبیح کرنا ترازو کو نیکیوں سے بھر دیتا ہے۔سبحان اﷲ اور الحمد ﷲ کی تسبیح کرنے سے زمین اور آسمان اس کی نیکیوں سے بھر جاتے ہیں۔نماز(نمازی کے لیے)ذریعہ نور ہے،صدقہ و خیرات اور دلیل و برہانِ نجات ہے۔صبر روشنی ہے(جس سے مصائب و مشکلات کے اندھیرے چھٹ جاتے ہیں)اور قرآن تمھارے حق میں یا تمھارے خلافت حجت ہے۔‘‘ یعنی اگر اس کی تلاوت کرو گے اور اس کے احکام پر عمل کرو گے تو وہ تمھارے حق میں حجت بن جائے گا،اور اگر اس کو پسِ پشت ڈال دو گے تو وہ تمھارے خلاف حجت بن جائے گا۔ اس حدیث میں نماز کو نور قرار دیا گیا ہے،جس کی تائید درجِ ذیل حدیث سے بھی ہوتی ہے: حدیث نمبر22: سنن دارمی،مسندِ احمد،طبرانی اوسط،شعب الایمان بیہقی،طبرانی کبیر اور صحیح ابن حبان میں مروی ہے،جس میں حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا ذکر شروع کیا تو اس کے بارے میں فرمایا: {مَنْ حَافَظَ عَلَیْھَا،کَانَتْ لَہٗ نُوْراً وَّبُرْھَانًا وَّنَجَاۃً یَّوْمَ الْقِیَامَۃِ}[2] ’’جس نے اس کی نگہداشت و محافظت کی تو یہ نماز اس کے لیے قیامت کے دن نورِ برہان اور ذریعہ نجات بن جائے گی۔‘‘ [1] مختصر صحیح مسلم للمنذري،رقم الحدیث (120) صحیح الجامع )2/ 4/ 20-21( [2] مشکاۃ المصابیح (1/ 183) صحیح ابن حبان (254) الموارد،وقال المنذري: إسنادہ جید،کما في تحقیق المشکوۃ (1/ 183) ووثق رجالہ الہیثمي،کما في کتاب الصلاۃ لعبد الملک الکلیب (ص: 205) من المجموعۃ،وتحقیق الصلاۃ لابن قیم (ص: 46) تحقیق صلاۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ( ص: 161(