کتاب: فقہ الصلاۃ (نماز نبوی مدلل)(جلد2) - صفحہ 638
ایسے ہی ان کی چوتھی دلیل وہ حدیث ہے،جس میں بنی ثقیف کے وفد کی آمد کا ذکر ہے۔انھیں جب نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں بٹھایا تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو تعجب ہوا اور انھوں نے کہا: ’’قَوْمٌ أَنْجَاسٌ؟!‘‘[1] ’’یہ تو نجس لوگ ہیں!‘‘ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ان الفاظ سے بھی وہ استدلال کرتے ہیں،حالانکہ ان کے اس استدلال کا جواب خود اسی حدیث ہی میں موجود ہے،جسے ہم آگے چل کر ذکر کرنے والے ہیں۔ وہ ایک اور حدیث سے بھی استدلال کرتے ہیں،جو صحیح بخاری و مسلم،سنن ابو داود و ترمذی اور مسند احمد میں حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی کہ ہم اہلِ کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں اور انہی کے برتنوں میں کھاتے پیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: {إِنْ وَجَدْتُمْ غَیْرَھَا فَلَا تَأْکُُلُوْا فِیْھَا،وَإِنْ لَّمْ تَجِدُوْا،فَاغْسِلُوھَا وَکُلُوْا فِیْھَا}[2] ’’اگر تمھیں دوسرے برتن مل سکتے ہوں تو ان کے برتنوں میں مت کھاؤ اور اگر دوسرے برتن نہ ملیں تو انہی کے برتنوں کو دھو لو اور ان میں کھا پی لو۔‘‘ سنن ابو داود اور مسند احمد میں یہ بھی مروی ہے کہ حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: ’’إِنَّھُمْ یَأْکُلُوْنَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَیَشْرَبُوْنَ الْخَمْرَ‘‘[3] ’’وہ لوگ خنزیر کھاتے اور شراب پیتے ہیں۔‘‘ اُن کے نزدیک برتنوں کو دھونے کا حکم دیا جانا ان کے نجس ہونے کی وجہ سے ہے،حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ قائلینِ جواز کا مانعین کو جواب اور دلائلِ جواز: جمہور اہلِ علم جو غیر مسلم کے مسجد میں داخلے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے،وہ ان مانعین کا یہ جواب دیتے ہیں:
[1] نیل الأوطار (1/ 1/ 20-طبع دار التراث) [2] صحیح البخاري،رقم الحدیث (5478،5488،5496) صحیح مسلم مع شرح النووي (7/ 13/ 79) صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث (3252) صحیح الترمذي،رقم الحدیث (1265) سنن ابن ماجہ،رقم الحدیث (3207) مسند أحمد (4/ 193۔195) المنتقی (1/ 1/ 101) [3] صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث (3252) مسند أحمد (4/ 193۔195) والمنتقی أیضاً۔