کتاب: فقہ الصلاۃ - صفحہ 63
لابن عساکر میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: {صَلَاۃٌ فِيْ أَثْرِ صَلَاۃٍ،لَا لَغْوَ بَیْنَھُمَا،کِتَابٌ فِيْ عِلِّیِّیْنَ}[1] ’’ایک نماز کے بعد دوسری نماز اس حال میں ادا کرنا کہ ان دونوں نمازوں کے مابین کوئی لغو فعل سر زد نہ ہوا ہو،یہ علیین میں لکھے جانے کا سبب ہے۔‘‘ علّییّن اور سجّین: اس حدیث کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ تیسویں پارے کی سورت مطففین میں مذکور علّییّن اور سجّین نامی دونوں مقامات کے بارے میں علم ہو کہ وہ کیا ہیں؟ یہ معلومات خود اسی سورت میں مذکور ہیں،چنانچہ اس کی آیت(7 تا 9)میں ارشادِ الٰہی ہے: ﴿کَلَّآ اِنَّ کِتٰبَ الفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍ وَمَآ اَدْرٰکَ مَا سِجِّینٌ کِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ ہر گز نہیں،یقینا بدکاروں کا نامۂ اعمال سجین(قید خانے)کے دفتر میں ہے اور تمھیں کیا معلوم کہ وہ قید خانے یا سجین کا(دفتر)کیا ہے؟ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی۔‘‘ معلوم ہوا کہ سجّین وہ مقام ہے،جہاں بدکاروں کے اعمال ناموں کا دفتر ہے،جبکہ علّییّن اس کے برعکس وہ مقام ہے،جہاں اَبرار کے اعمال ناموں کا دفتر ہے،چنانچہ اسی سورت کی آیت(18 تا 21)میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿کَلَّآ اِنَّ کِتٰبَ الْاَبْرَارِ لَفِیْ عِلِّیِّیْنَ وَمَآ اَدْرٰکَ مَا عِلِّیُّوْنَ کِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ یَّشْھَدُہُ الْمُقَرَّبُوْنَ ’’یقینا نیکوکاروں کا نامۂ اعمال علیین میں ہے۔تمھیں کیا معلوم کہ علّییّن کیا ہے؟ وہ تو ایک کتاب ہے لکھی ہوئی،اس کے پاس مقرب(فرشتے)حاضر ہوتے ہیں۔‘‘ اس سے اگلی آیات میں اَبرار یا نیکوکاروں کو ملنے والی جنت کی نعمتوں میں سے بعض کا ذکر آیا ہے،اس طرح نماز کے فضائل کا اندازہ بہ آسانی ہوجاتا ہے۔ حدیث نمبر21: جبکہ بعض احادیث میں نماز کو نور،برہان اور قیامت کے دن ذریعہ نجات قرار دیا گیا ہے، [1] صحیح سنن أبي داود،رقم الحدیث (522-1145) صحیح الجامع،رقم الحدیث )3837(